تاریخ میں منشیات کے خلاف جنگ کا پہلا بین الاقوامی معاہدہ کب اور کیسے وجود آیا؟
انیسویں صدی میں افیون کی جنگوں نے چین میں افیون کی تجارت اور کھپت کے پھیلاؤ کا سبب بننے کے بعد تنقید کو جنم دیا
بیسویں صدی کے آغاز میں افیون کی تجارت اور اس کے استعمال پر بہت سی تنقیدیں ہوئیں کیونکہ اس پودے کا غیر طبی مقاصد کے لیے استعمال بہت سے معاشروں میں عام ہو گیا تھا۔ اس صورت حال کا سامنا کرتے ہوئے مختلف ممالک میں سیاست دانوں نے اس امید پر کارروائی کی کہ افیون کی غیر قانونی تجارت کو ختم کیا جائے۔
پہلی بین الاقوامی افیون کانفرنس
افیون کی تجارت پر بڑھتی ہوئی تنقید اور افیون کی جنگوں کے بعد جن میں چین کو اس تجارت کے لیے اپنی بندرگاہیں کھولنے پر مجبور کیا تھا سنہ 1909ء میں چین کے شہر شنگھائی میں 13 ممالک کے نمائندوں نے ملاقات کی، جسے افیون کی بین الاقوامی میٹنگ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس اجلاس کے چند سال بعد افیون پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس جنوری 1912ء میں ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں منعقد ہوئی۔
تاریخ میں منشیات پر قابو پانے کے پہلے بین الاقوامی معاہدے کے تحت مدعو ممالک کے نمائندوں نے حتمی بیان پر دستخط کیے جس میں ان تمام افراد کو ٹریک کرنے اور کنٹرول کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ معاہدے کے تحت مارفین، کوکین اور ان کے مشتقات کی تیاری، برآمد اور درآمد، ان تمام نشہ آور اشیاء کی تیاری اور تجارت کے لیے استعمال ہونے والی عمارتوں اور دکانوں کو کنٹرول کرنے کا عہد کیا گیا۔
اس کے علاوہ اس معاہدے پر امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، اٹلی، جاپان، ہالینڈ، فارس (موجودہ ایران)، پرتگال، روس اور سیام (موجودہ تھائی لینڈ) نے دستخط کیے تھے۔
سنہ 1915ء سے شروع ہونے والےمعاہدےمیں کچھ ممالک جیسے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ناروے نے اس معاہدے کو داخلی سطح پر کئی قوانین کے ساتھ باضابطہ طور پر اپنانے کی کوشش کی۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد یہ معاہدہ ورسائی معاہدے میں شامل ہونے کے بعد تمام ممالک تک پہنچا دیا گیا۔
دوسری افیون کانفرنس
سنہ 1925ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں افیون کی دوسری کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے جو بنیادی طور پر لیگ آف نیشنز سے منسلک ایک مستقل مرکزی افیون کونسل کے زیر نگرانی افیون کے کنٹرول کے نظام کا حصہ تھا۔ سنہ 1931ء تک نارکوٹکس سپرویژن بورڈ قائم کیا گیا۔ سال 1968ء کے دوران اس باڈی کو مستقل مرکزی افیون کونسل کے ساتھ ضم کر دیا گیا جس کے بعد یہ بین الاقوامی نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کی صورت میں سامنے آیا۔
سنہ1925ء کی کانفرنس کے دوران مصر نے جنوبی افریقہ اور اٹلی کے تعاون سے حشیش (چرس) کو ممنوعہ ادویات کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی۔ اس کے علاوہ، ہندوستان اور کچھ دوسرے ممالک نے اس معاملے پر اعتراض کرتے ہوئے، سماجی اور مذہبی رسوم و رواج اور روایات کے وجود پر زور دیا جس میں بعض قسم کی بھنگ خاص طور پر ہندوستانی بھنگ کے استعمال کی اجازت پر زور دیا گیا۔
اس صورت حال کے پیش نظر ایک سمجھوتہ طے پایا جس میں یہ شرط طے کی گئی کہ بھنگ ان ممالک کو برآمد نہیں کی جانی چاہیے جنہوں نے اس کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ درآمد کرنے والے ممالک کو مطلوبہ مقدار پر دستاویزات جاری کرنے اور صرف سائنسی یا طبی مقاصد کے لیے اس کے استعمال کی تصدیق کرنے کا پابند ہونا چاہیے۔