اٹلی میں ایرانیوں کی حراست 'یرغمال بنانے' کے مترادف ہے: تہران

ایرانی شہری عابدینی کی گرفتاری غیر قانونی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران نے پیر کو کہا کہ امریکہ کی درخواست پر اٹلی میں ایک ایرانی شہری کو حراست میں لینا یرغمال بنانے کے مترادف ہے۔

ایرانی تاجر محمد عابدینی کو گذشتہ ماہ میلان میں حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ اردن میں امریکی افواج کے خلاف ڈرون حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں امریکہ کو مطلوب ہیں جبکہ ایران نے اس کی تردید کی ہے۔

ان کی گرفتاری کا تعلق اطالوی رپورٹر سیسیلیا سالا کی تین دن بعد ہونے والی حراست سے ہے جنہیں 19 دسمبر کو تہران میں باقاعدہ صحافتی ویزا کے تحت کام کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا، "ہمارے نزدیک بعض ممالک میں ایرانی شہریوں کا تعاقب یا حوالگی انہیں یرغمال بنانے کی ایک صورت ہے۔"

انہوں نے تہران میں ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی نیوز کانفرنس میں کہا، "ان کے خلاف بنیادی الزام یکطرفہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کا ہے۔ ایرانی شہریوں کو پھنسانے کے لیے عدالتی ڈھانچہ بنانا غیر قانونی، غیر اخلاقی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔"

کیا سالا کی حراست کا اٹلی میں عابدینی کی گرفتاری سے کوئی تعلق ہے، اس سوال پر بقائی نے کہا: "ان معاملات کا کسی بھی طرح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

عابدینی کو اس وقت جیل میں رکھا گیا ہے اور ایک عدالت اس ماہ فیصلہ کرنے والی ہے کہ آیا انہیں گھر میں نظر بند کیا جائے یا نہیں جبکہ جج امریکہ کی حوالگی کی درخواست پر غور کریں گے۔

اٹلی کی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ ہفتے ایرانی سفیر کو طلب کر کے سالا کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور ان کی حراست پر "شدید تشویش" کا اظہار کیا۔

حالیہ برسوں میں ایران کی سکیورٹی فورسز نے درجنوں غیر ملکیوں اور دوہری شہریت کے حامل افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے زیادہ تر پر جاسوسی اور سکیورٹی سے متعلق الزامات میں ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ ایران اس طرح کی گرفتاریوں کے ذریعے دوسرے ممالک سے مراعات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران اس بات کی تردید کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں