سبکدوش ہونے والے امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے بدھ کے روز پیرس کا دورہ شروع کیا جس میں وہ فرانس کا اعلیٰ ترین اعزاز حاصل کرنے کے علاوہ جنگ زدہ شرقِ اوسط پر مزید ہم آہنگی کی کوشش کریں گے۔
امریکہ کے اعلیٰ سفارت کار بدھ کو علی الصبح جاپان اور جنوبی کوریا میں رکنے کے بعد پیرس پہنچے جو متوقع طور پر ان کا آخری سفر ہے۔ پھر 20 جنوری کو نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں ان کی جگہ مارکو روبیو سنبھالیں گے۔ اے ایف پی کا ایک رپورٹر اس کے ساتھ سفر کر رہا ہے۔
بلنکن صدر عمانویل میکروں سے ملاقات کریں گے جو انہیں فرانس کے اعلیٰ ترین اعزاز لیجن آف آنر سے نوازیں گے۔
اپنے بچپن کا کچھ حصہ پیرس میں گذارنے اور روانی سے فرانسیسی بولنے والے بلنکن کے لیے یہ ایوارڈ خاص طور پر بہت زیادہ معنی خیز اور متأثر کن ہو گا جنہوں نے اپنے عالمی نظریئے کی تشکیل میں فرانس کے کردار کے بارے میں بات کی۔
بائیڈن اور بلنکن نے بارہا کہا ہے کہ ان کی ترجیح امریکی اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا رہی ہے۔ ٹرمپ کے ساتھ معاملہ اس کے بہت زیادہ برعکس ہے جنہوں نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی گرین لینڈ اور پاناما کینال کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کا عندیہ دیا تھا۔
بلنکن شام سمیت شرقِ اوسط پر مرکوز گفتگو کے لیے وزیرِ خارجہ ژاں نول باروٹ سے بھی ملاقات کریں گے۔
بلنکن نے پیر کو کہا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے دفتر میں اپنے آخری وقت تک کام کریں گے کیونکہ امریکہ اور قطر، اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ سفارت کاری بڑھا رہے ہیں۔
بلنکن جمعرات کو شام پر یورپی ہم منصبوں سے گفتگو کے لیے روم جائیں گے۔ پھر امریکی صدر بائیڈن کے ساتھ شامل ہو جائیں گے جو اپنے آخری بین الاقوامی دورے پر پوپ فرانسس سے ملیں گے۔