امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ روسی رہنما ولادیمیر پوتن ان سے ملنا چاہتے ہیں اور جوڑے کے درمیان ملاقات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بیان اقتدار سنبھالنے سے صرف ڈیڑھ ہفتہ قبل دیا ہے۔ قبل ازیں انہوں نے یوکرین میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدے کیے تھے۔
ٹرمپ نے فلوریڈا کے پام بیچ میں اپنے مار-آ-لاگو ریزورٹ میں ریپبلکن گورنرز کے ساتھ ملاقات میں کہا، "پوتن ملنا چاہتے ہیں اور ہم ملاقات کا اہتمام کر رہے ہیں۔"
انہوں نے عوامی سطح پر بھی کہا ہے، "صدر پوتن ملنا چاہتے ہیں اور ہمیں یہ خونیں جنگ ختم کرنا ہو گی۔"
ٹرمپ نے کبھی بھی جنگ بندی یا امن معاہدے کے لیے کوئی ٹھوس تجاویز پیش نہیں کیں اور اکثر امریکہ کی طرف سے کئیف کو بھیجی جانے والی فوجی امداد پر تنقید کی ہے۔
ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا بھی اکثر "سیلز مین" کے طور پر مذاق اڑایا ہے جبکہ پوتن پر تنقید شاذ و نادر ہی کرتے ہیں حتیٰ کہ انہوں نے کریملن کے رہنما کی تعریف کی ہے جس پر واشنگٹن میں حیرت کا اظہار ہوتا رہا ہے۔
صدر جو بائیڈن کی قیادت میں یوکرین کو وسیع پیمانے پر بھیجی گئی فوجی امداد پر تنقید کرنے کے علاوہ ٹرمپ نے مغربی فوجی اتحاد نیٹو میں امریکہ کی مسلسل شمولیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
بائیڈن کے ماتحت امریکہ دورانِ جنگ یوکرین کا سب سے بڑا حمایتی رہا ہے جو فروری 2022 سے اب تک 65 بلین ڈالر سے زیادہ کی فوجی امداد فراہم کر چکا ہے۔