کیلیفورنیا میں ڈھلتے ہوئے سورج کے ساتھ لاس اینجلس کی فضاؤں میں ہوائی ٹینکرز اور ہیلی کاپٹر تیزی سے دائیں بائیں چکر لگا رہے تھے۔ وسیع پیمانے پر لگی ہوئی آگ بجھانے کے لیے وہ پانی اور مخصوص قسم کی ریت آتش زدہ عمارت پر گرا رہے تھے۔
شہر کے اوپر ایک ہیلی کاپٹر سے ہر سمت میں دیکھتے ہوئے اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے نصف درجن شعلوں کا مشاہدہ کیا – پہاڑی مناظر میں دھوئیں کے بادل یوں فضا میں بلند ہو رہے تھے گویا کوئی تازہ تازہ آتش فشاں پھٹ گیا ہو۔
آگ بجھانے والے اہلکاروں نے فوری طور پر اپنے فضائی وسائل اس مقام پر مرکوز کر دیئے اور ایک پُرسکون اور خاموش فضا چند ہی منٹوں کے اندر جنونی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی۔
جہنم جیسی آگ کے کناروں پر پانی گراتے ہوئے نصف درجن کے قریب ہیلی کاپٹر کم بلندی پر محوِ پرواز تھے۔
اس سے اوپر کچھ بلندی پر چھوٹے طیارے وقتاً فوقتاً بڑے بڑے ٹینکرز کی رہنمائی کرتے جو آگ بجھانے والی چمکدار سرخ ریت شعلوں پر پھینکتے تھے۔
ہیلی کاپٹر کے پائلٹ البرٹ ازوز نے کہا، "بیک وقت اتنے زیادہ شعلےکبھی نہیں دیکھے۔"
2016 سے ایک پرائیویٹ ایوی ایشن کمپنی کے لیے کام کے دوران انہوں نے آتش زدگی کے کئی واقعات دیکھے ہیں جن میں چھے سال پہلے کی ہلاکت خیز مالیبو کی آگ بھی شامل ہے۔
انہوں نے یاد کیا، "یہ ناقابلِ یقین تھا۔"
افراتفری کے عالم میں اپنے ہیلی کاپٹر کو آگ کے اوپر منڈلاتے ہوئے وہ بار بار کہتے، "یہ افسوس ناک ہے۔"
جمعرات کی سہ پہر کالاباسس کے قریب نئی آگ گئی۔ یہ لاس اینجلس کے باہر جدت کا حامل ایک انکلیو ہے جو معروف شخصیات مثلاً رئیلٹی ٹیلی ویژن کے کارداشیئن خاندان کے حوالے سے مشہور ہے۔
تین ہزار گیلن ٹینکوں سے آراستہ بوئنگ چینوک ہیلی ٹینکر سمیت ہوائی جہاز کینیڈا تک سے لائے گئے ہیں۔
منگل کو لاس اینجلس میں لگی ہوئی آگ پر قابو پانے اور مزید تباہی کم کرنے کے لیے ایک انمول ذریعہ بننے والے یہ ہیلی کاپٹر ابتدائی چند گھنٹوں کے دوران سو میل (160 کلومیٹر) فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہوا کی وجہ سے پرواز کرنے سے قاصر تھے۔
جمعرات کو ہیلی کاپٹروں نے کئی سو دفعہ پانی اور ریت گرائی۔
رات کے وقت کام کرنے والے آلات سے مزین وہ ہیلی کاپٹر دھوئیں سے بھرے علاقے کے گرد چکر لگاتے اور آگ کے شعلوں سے نمٹنے کے لیے دیوانہ وار کام کرتے رہے۔ قبل ازیں لاس اینجلس میں رات کو ہوا کے زوردار جھکڑ دوبارہ چلنے کی پیشن گوئی تھی۔