آسٹریلیا میں عبادت گاہ پر حملہ: ریاستی وزیرِ اعظم نے یہود مخالف جرائم میں اضافہ قرار دے دی
غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہود مخلالف اور اسلاموفوبک واقعات میں اضافہ
آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے وزیرِ اعظم کرس منز نے اتوار کے روز کہا ہے کہ سڈنی کی ایک عبادت گاہ پر ہفتے کے روز ہونے والے حملے سے ریاست میں یہود مخالف جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ اس حملے کے بارے میں پولیس نے کہا کہ حملہ آتش زنی کی کوشش تھا۔
آسٹریلیا میں گذشتہ سال میں یہود مخالف واقعات کا ایک سلسلہ دیکھنے میں آیا ہے جن میں سڈنی میں عمارات اور گاڑیوں پر یہود مخالف الفاظ تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ میلبورن میں ایک عبادت گاہ پر آتش زنی کا حملہ بھی شامل ہے جسے پولیس نے دہشت گردی قرار دیا۔
تازہ ترین واقعے میں پولیس کو ہفتے کے روز علی الصبح نیو ٹاؤن کے اندرونی مضافاتی علاقے میں ایک عبادت گاہ پر یہود مخالف گرافٹی (تحریر) کی اطلاع ملی۔ پولیس نے بعد میں بتایا کہ عبادت گاہ کو آگ لگانے کی بھی کوشش کی گئی۔
آسٹریلیا کی گنجان ترین ریاست کے رہنما منز نے اتوار کے روز ریاستی پولیس کمشنر کیرن ویب کے ہمراہ ایک ٹیلیویژن میڈیا کانفرنس میں کہا، "یہ نیو ساؤتھ ویلز میں یہود مخالف جرائم میں اضافہ ہے۔ پولیس اور حکومت کو بہت تشویش ہے کہ شاید ایک تیزی سے آگ پھیلانے والا مادہ استعمال کیا گیا ہو۔"
ویب نے کہا، "گذشتہ 24 گھنٹوں میں ان معاملات کو اب انسدادِ دہشت گردی کی کمان نے سنبھال لیا ہے۔"
نیو ساؤتھ ویلز کے جیوش بورڈ آف ڈپٹیز کے صدر ڈیوڈ اوسپ نے اتوار کو حالیہ واقعات کی تحقیقات کے لیے حکومت کی جانب سے اضافی وسائل کا خیرمقدم کیا۔
اوسپ نے ایک بیان میں مزید کہا، "نیو ساؤتھ ویلز کی حکومت نے ہمیں یہودیوں کے لیے فرقہ وارانہ تحفظ میں اضافے کے لیے مزید مالی امداد بھی فراہم کی ہے۔"
جمعہ کے روز وزیرِ اعظم انتھونی البانی نے سدرن سڈنی سیناگوگ کے واقعے کے حوالے سے کہا، "آسٹریلیا میں روادار ی کی حامل ہماری کثیر الثقافتی برادری میں اس قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔"
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آسٹریلیا میں یہود مخالف اور اسلاموفوبک واقعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ کچھ یہودی تنظیموں نے کہا ہے کہ حکومت نے جواب میں خاطر خواہ کارروائی نہیں کی۔