متنازعہ ریاست جموں و کشمیر تک رسائی کے لیے بھارت کی زیرزمین سرنگ کا افتتاح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھارت کے ساتھ متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کے زمینی راستہ کو سال بھر کے لیے کھلا رکھنے کی ضرورت کے تحت طویل زیر زمین سرنگ کا افتتاح کیا ہے۔

زیر زمین راستے کے لیے تعمیر کی گئی سرنگ کے اس منصوبے پر 932 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔ جو پہاڑیوں کو کاٹتی ہوئی کشمیر اور لداخ کے ساتھ بھارت کی آبادی اور فوج کو رسل و رسائل اور نقل و حمل میں مدد دے گی۔

واضح رہے ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1947 سے ایک تنازعہ چلا آرہا ہے۔ پاکستان اور کشمیریوں کی کثیر تعداد کا دعویٰ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کا فطری تعلق پاکستان کے ساتھ بنتا ہےکہ ریاست کے قدرتی راستوں کی بڑی تعداد اور دریاؤں کا رخ پاکستان کی طرف ہے۔ جبکہ بھارت کو ریاست جموں و کشمیر کا صرف ایک تنگ راستہ ملاتا ہے، جو کارگل سے ہو کر بھارت کو رسائی دیتا ہے۔

علاوہ ازیں کشمیری عوام اور پاکستان ریاست جموں و کمشمیر کے مستقبل کے فیصلے کو تقسیمِ ہند کے منصوبے کی تکمیل کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی اس مؤقف کی حمایت کرتی ہیں۔ جس کے تحت اکثریتی آبادی کے مذہب کی بنیاد پر فیصلہ ہونا تھا کہ اس نے پاکستان کے ساتھ ملنا تھا یا بھارت کے ساتھ۔

تاہم بھارت نے اس دوران کشمیر پر اپنا فوجی کنٹرول پختہ کیے رکھا ہے اور اب اس نے زمینی راستے سے بھی کشمیر تک اپنی رسائی کو بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی جن کی حکومت بطور خاص کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتی ہے، انتہائی حفاظتی انتظامات کے دوران اس زمینی سرنگ کے ذریعے بنائے جانے والی طویل سرنگ کے افتتاح کے لیے متنازعہ ریاست کے سیاحتی مقام سونامرگ پہنچے۔

اس بھارتی منصوبے کو 'زی مارتھ' کا نام دیا گیا ہے۔ جس کے تحت بھارت اب موسم سرما میں بھی جموں و کشمیر کی ریاست تک اپنی زمینی رسائی ممکن بنا سکے گا۔

یہ اس سلسے کی پہلی سرنگ ہے جبکہ دوسری سرنگ جس کی لمبائی 14 کلومیٹر ہوگی وہ زوجیلا پاس سے گزرتی ہوئی سونامرگ کو لداخ کے ساتھ جوڑے گی۔ اس زیر زمین راستے کی تکمیل امکانی طور پر 2026 میں ہو جائے گی۔

واضح رہے کشمیر کی برف پوش وادی غیر معمولی برفباری کی وجہ سے بھارت اور اس کی افواج کے لے ناقابل رسائی ہو جاتی ہے اور راستے برفباری کی وجہ سے بند ہو جاتے ہیں۔

پیر کے روز نریندر مودی نے جب افتتاحی تقریب میں شرکت کی تو جگہ جگہ پولیس اور فوج کے دستے تعینات کیے گئے۔ مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کی گئیں۔ پوری ریاست میں سیکیورٹی کے انتظامات کو غیرمعمولی کر دیا گیا تھا۔

تقریبِ افتتاح کے اردگرد مشاق نشانہ باز اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور یہ یقینی بنایا گیا تھا کہ اس موقع پر کوئی کشمیری شہری وزیراعظم کے خلاف یا اس سرگرمی کے خلاف حرکت نہ کر سکے۔

یاد رہے ریاست جموں و کشمیر میں پچھلے پینتیس برسوں سے زیادہ عرصے سے بھارت کی لاکھوں کی تعداد میں فوج تعینات ہے۔ تاہم اس دوران کبھی بھی بھارت اس اطمینان کی حالت میں نہیں آسکا کہ اس نے کشمیر میں آزادی کی تحریک کو کچل دیا ہے، اب اسے یہاں فوج کی ضرورت نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ منصوبہ فوجی اہمیت کے اعتبار سے غیرمعمولی ہے۔ جس کے بعد بھارت کشمیر اور انتہائی بلند چوٹیاں رکھنے والے لداخ میں بھی آسانی سے نقل و حرکت کر سکے گی اور بھارت جب چاہے گا ، ان علاقوں میں اپنی فوجی نفری میں سہولت کے ساتھ اضافہ کر سکے گا۔

بھارت کی نریندر مودی حکومت نے 5 اگست 2019 کو ریاست جموں و کشمیر کے خصوصی سٹیٹس کے خاتمے کے لیے آئین کے آرٹیکل 370 کو یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ جس کے بعد بھارت کو امید تھی کہ اب ریاست جموں و کشمیر پر اس کے حمتی قبضے پر کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ لیکن اس واقعہ نے کشمیر کی ان جماعتوں کو بھی بھارتی فیصلے اور بھارت کے خلاف کھڑا کر دیا جو ماضی میں بھارت نواز کہلاتی تھیں۔

کسی بھی بھارتی وزیراعظم یا وزیر داخلہ کا ریاست جموں و کشمیر کا دورہ جب کبھی بھی ہوتا ہے، انتہائی حفاظتی انتظامات اور فوجی دستوں کی تعیناتی کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ جیسا کہ پیر کے روز بھی فوج کی غیرمعمولی نقل و حرکت اور پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی دیکھنے میں آئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں