ترکیہ میں پولیس نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جو عام نکلنے کے پانی کو زم زم کے نام سے لوگوں کو فروخت کرکے ان سے پیسے بٹورنے کا دھندہ چلا رہا تھا۔
اس چال سے منافع کمانے والے شخص کے فراڈ کے بے نقاب ہونے کے بعد سوشل میٰڈیا پر بہت سے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اضنہ شہر کی پولیس کو ایک واٹر فیکٹری کے مالک کی دھوکہ دہی کا پتا چلا۔
"مکہ مکرمہ سے امپورٹڈ"
معلوم ہوا کہ وہ لوگوں کو نلکے کے پانی کی بوتلیں زمزم کے پانی کے طور پر بیچ رہا تھا اور دعویٰ کررہا تھا کہ پانی کو مکہ مکرمہ سے درآمد کیا گیا تھا۔
مقامی میڈیا کے مطابق،تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس نے روزانہ تقریباً 600,000 لیرے (64,000 ریال کے برابر) "ملاوٹ شدہ" پانی فروخت کر کے کمائے۔
جب فیکٹری مالک سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کوئی عار محسوس کیے بغیر کہا کہ ’ میرے گاہک بہت مطمئن تھے‘۔
اس نے کہا کہ اسے ان لوگوں کی طرف سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی جنہوں نے اس کا "ملاوٹ" پانی خریدا تھا!