شمالی کوریا نے یوکرین کے خلاف روس کی جانب سے تعینات اپنے فوجیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ "گرفتار ہونے سے پہلے خود کو قتل کر دیں"۔ یہ بات پیر کے روز جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس کی جانب سے جاری معلومات میں سامنے آئی۔
جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس کے اندازے کے مطابق اس روس یوکرین جنگ میں شمالی کوریا کے کم از کم 300 فوجی مارے جا چکے ہیں جب کہ یوکرین اور امریکا کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ یہ معلومات جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس نے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ بند کمرے کے اجلاس میں ظاہر کی۔ اجلاس میں حکمراں جماعت کے رکن پارلیمنٹLee Seong-kweun نے بتایا کہ جدید جنگ کی سمجھ نہ رکھنے کے سبب شمالی کوریا کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔
یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی نے کچھ مدت پہلے بتایا تھا کہ ان کی فوج نے شمالی کوریا کے پہلے دو فوجیوں کو قیدی بنا لیا۔ انھوں نے"X" پلیٹ فارم پر ایک وڈیو بھی پوسٹ کی تھی جس میں دو زخمی قیدیوں سے ترجمان کے ذریعے پوچھ گچھ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان میں ایک فوجی نے اس بات سے لا علمی کا اظہار کیا کہ وہ حقیقی لڑائی میں شریک ہے۔ اس فوجی نے یوکرین میں رہنے کی خواہش ظاہر کی جب کہ دوسرے فوجی نے شمالی کوریا واپسی کو ترجیح دی۔
جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق اس کے پڑوسی ملک شمالی کوریا کے فوجیوں نے روس میں کورسک کے محاذ پر "بے فائدہ کام" انجام دیے۔ ان میں طویل فاصلے پر ڈرون طیاروں پر فائرنگ شامل ہے۔ اس چیز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فوجی جدید لڑائی کی استعداد سے محروم ہیں۔ یوکرین حکومت نے روسی محاذ پر شمالی کوریا کے فوجیوں کی تعداد کا اندازہ 11 ہزار کے قریب لگایا ہے۔
اس سے قبل خبر آئی تھی کہ شمالی کوریا کے ایک فوجی نے ایک ناکام حملے میں شریک ہونے کے بعد قید میں جانے سے بچنے کے لیے خود کو بم سے اڑا دیا۔ یہ واقعہ ایک جھڑپ کے بعد پیش آیا جس میں شمالی کوریا کے 17 فوجی مارے گئے جب کہ یوکرین کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
جہاں تک لڑائی میں شمالی کوریا کے فوجیوں کی ہلاکتوں کا تعلق ہے تو جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس نے اس کا اندازہ 300 اموات لگایا ہے جب کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ جنگ میں اب تک شمالی کوریا کے 4 ہزار فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ ادھر امریکا کے اندازے کے مطابق گذشتہ ماہ کے اختتام تک یہ تعداد 1000 تھی۔