افسانے سے زیادہ اجنبی منظر میں ایک ویڈیو حالیہ دنوں میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر پھیل گئی اور ترکوں کو حیرت زدہ کرکے رکھ دیا۔ ویڈیو کلپ میں تین بھائیوں کو اپنے والد کی جائیداد کی تقسیم پر جھگڑے کے بعد مسجد کو تقسیم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ترکیہ کے مذہبی گروپ "المنزل" کے رہنما کے بچوں کی جانب سے اپنے والد کی جائیداد، جس میں 17 ارب لیرا اور 5 ہزار کرائے کے مکانات شامل تھے، تقسیم کرنے کے بعد لڑائی ایک مسجد تک پہنچ گئی۔ تینوں بھائیوں نے مسجد کے صحن کو آپس میں تقسیم کرنے کے لیے کھودنا شروع کر دیا۔ مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کی طرف سے شیئر ویڈیو نے ترکیہ میں غم و غصہ پھیلا دیا۔
واضح رہے المنزل گروپ کی بنیاد ابتدائی طور پر شیخ نقشبندی محمد راشد ارول نے رکھی تھی اور اس کا نام جنوبی وسطی ترکیہ میں واقع ریاست ادیامان کے گاؤں "منزل" کی بنیاد پر رکھا گیا۔ یہ گروپ، جس کے ارکان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے، ملک کے مغربی علاقوں میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ گروپ کئی ہسپتالوں اور سکولوں کے ساتھ ساتھ مقامی میڈیا (ریڈیو، ٹیلی ویژن، اور میگزین) کا بھی مالک ہے۔