شام کی سیکیورٹی فورسز نے تقریباً سو ملین کی تعداد میں منشیات کی گولیاں تباہ کی ہیں۔ یہ منشیات کی گولیاں کیپٹاگون سے بنائی گئی تھیں۔ جس کی پیداوار اور دوسرے ملکوں کے لیے سمگلنگ سابق صدر بشار الاسد کی نگرانی میں ہوتی رہی ہے۔ یہ بات ایک سرکاری ذمہ دار نے بتائی ہے۔
2022 میں بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے تحقیقات کے بعد یہ خبر حاصل کی تھی کہ شام کو بشار الاسد نے ایک منشیاتی ریاست بنا دیا ہے اور کیپٹاگون کی صنعت شام میں دس ارب ڈالر کی مالیت کو چھو چکی ہے۔ جو دیگر تمام برآمدات سے زیادہ ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت بڑی تعداد میں منشیات کی یہ گولیاں تباہ کی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے ذمہ دار بدر یوسف نے بتایا کہ سو ملین گولیاں اور دس سے پندرہ ٹن حشیش کے علاوہ منشیات سے متعلق دوسرا خام مال بھی تباہ کیا گیا ہے۔
یہ ذمہ دار دمشق سے سیکیورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹرز کے چوتھے ڈویژن سے بات کر رہا تھا۔ جہاں سے ان منشیات کو ضبط کیا گیا۔
خیال رہے شام کی فورسز کا چوتھا ڈویژن بشار الاسد کے زمانے میں فوج کا بدترین حصہ تھا۔ جسے اس کا بھائی ماہر الاسد سنبھالتا تھا۔
آٹھ دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد شام میں نئی رجیم نے کئی مواقع پر منشیات کی تباہی کے اقدامات کیے ہیں۔ اتوار کے روز بھی نئی حکومت کی منشیات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف اقدامات کی ایک کڑی کے طور پر لاکھوں گولیوں پر مشتمل منشیات کو تباہ کیا گیا ہے۔
اتوار ہی کے روز حکام نے فوٹوگرافرز کو ان گودام کا وزٹ کرایا جہاں پر بھاری مقدار میں منشیات رکھی گئی تھیں۔ سیکیورٹی فورس کے ذمہ دار ابو ریحان نے کہا ہے 'فورتھ ڈویژن سے تعلق رکھنے والی منشیات کے 50 سے 60 ملین گولیوں پر محیط حصے کو اب تباہ کیا جا چکا ہے۔'