ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ ' سٹیو وٹکوف ' اسرائیل اور غزہ جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندے سٹیو وٹکوف اسرائیل حماس جنگ بندی معاہدے کے بعد غزہ کی پٹی کے دورے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بدھ کے روز کہا وہ معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے ایک معائنہ ٹیم کے ہمراہ غزہ جائیں گے۔

سٹیو وٹکوف کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی اسرائیل حماس جنگ بندی اور اسرائیلی قیدی چھڑانے میں اہم کر دار ادا کیا ہے۔

مشہور ٹی وی چینل ' فاکس نیوز ' کے ساتھ ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ پر امیدی بھی ظاہر کی ہے ' خطے کے تمام ملک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے اب ' آن بورڈ' ہو سکتے ہیں۔ ان ممالک کی نشاندہی کرنے کے لیے پوچھے گئے ایک سوال پر سٹیو وٹکوف نے خلیجی ملک قطر کا نام لیا اور کہا قطر جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے میں مدد دینے والا اہم کھلاڑی ہے۔ انہوں نے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی کی حماس کے ساتھ ڈیل کرنے کی مہارت کا بطور خاص ذکرھی کیا۔

واضح رہے قطر مصر اور امریکہ تینوں نے بطور ثالث ملک تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی معاہدے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اتفاق سے ان تین ثالث ملکوں سے صرف ایک قطر کے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات نہیں ہیں۔ قطر اور مصر نے جنگ بندی معاہدے کے لیے مصر میں ایک مواصلاتی مرکز بھی قائم کیا ہے۔ تاکہ دشمن فریقوں کے درمیان نئی جھڑپیں شروع نہ ہونے دیں۔

وٹکوف کا اپنے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہنا تھا' اس جنگ بندی پر عمل کرانا زیادہ مشکل کام ہو گا۔ جنگ بندی معاہدے پر عمل شروع ہونے کے بعد میں دراصل اسرائیل جا رہا ہوں۔ لیکن میں نیٹزارم کوریڈور اور فلاڈیلفی کوریڈور پر ایک معائنہ ٹیم کا حصہ بھی ہوں گا۔'

یاد رہے 'نیٹزارم' شرقاً غرباً بنی پٹی ہے جسے اسرائیلی فوج نے جنگ کے دوران ملبے سے صاف کیا ہے تاکہ جو شمالی اور جنوبی غزہ کے درمیان فلسطینیوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور رابطوں کو روک سکے جبکہ فلاڈیلفی غزہ اور مصر کے درمیان ایک تنگ سرحدی پٹی ہے۔

وِٹکوف نے ان جگہوں کے بارے کہا' یہیں آپ کے پاس غیر ملکی نگران موجود ہیں، تاکہ یہ یقینی بنائیں کہ لوگ محفوظ رہیں ہیں اور جو بھی لوگ غزہ میں داخل ہو رہے ہیں وہ مسلح لوگ نہیں ہیں۔'

واضح رہے ٹرمپ انتظامیہ کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد غزہ کے اندر امریکہ کی یہ پہلی 'انٹری' ہو گی۔ جس کا مقصد معاہدے کو ٹریک پر رکھنے میں مدد کرنا بتایا جا رہا ہے۔ وٹکوف نے یہ نہیں بتایا کہ معائنہ کرنے والی ٹیموں کا حصہ مزید کون لوگ ہو سکتے ہیں۔

جب انٹرویو کے دوران سٹیو وٹکوف سے یہ پوچھا گیا کہ خطے کے کون کون سے ممالک ابراہیم معاہدے میں شامل ہو سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا' مجھے لگتا ہے کہ آپ خطے میں ہر ایک کواس سلسلے میں آن بورڈ میں لے سکتے ہیں۔ خطے کی قیادت میں ایک نیا احساس ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں