اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی آئندہ اتوار کو سعودی عرب کا دورہ کرنے والی ہیں۔ اطالوی ایوان صدر نے اعلان کیا کہ یہ ان کا سعودی عرب کا پہلا دورہ ہے۔ اپنے دورے کے دوران سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گی۔ اس ملاقات میں سعودی عرب اور اٹلی کےدرمیان مشترکہ تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دونوں ممالک کے درمیان 1932ءسے قریبی تعلقات چلے آ رہے ہیں جب اٹلی سعودی عرب کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے پہلے ممالک میں شامل تھا۔اس نے جدہ میں اطالوی قونصل خانہ کھولا تھا۔ 1933ء میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔
اس عرصے کے بعد سے دونوں ممالک کی قیادتوں کے درمیان سیاسی تعلقات اور بات چیت کا سلسلہ باہمی دوروں اور دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ملاقاتوں کے ذریعے جاری ہے تاکہ تمام شعبوں میں تعلقات کی سطح کو بڑھایا جا سکے، جبکہ 2023 میں دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 10.796 بلین ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔
انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اٹلی کو 4.921 ارب ڈالر کی برآمدات کرتا ہے، جس میں سے 737 ملین ڈالر غیر تیل کی برآمدات شامل ہیں، جب کہ وہ اٹلی سے 5.875 ارب ڈالر کی درآمدات کرتا ہے۔مملکت خطے کے ممالک میں اٹلی کا دوسرا تجارتی پارٹنر ہے۔
اسی تناظر میں اٹلی سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے والے سرفہرست 20 ممالک میں شامل ہے۔اس وقت 150 سے زائد اطالوی کمپنیوں نے سعودی عرب میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا لائسنس حاصل کیا ہے۔سعودی انڈسٹریل پراپرٹی اتھارٹی (MODON) اٹلی کے لیے 8 فیکٹریوں کی میزبانی کرتی ہے۔
معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی صنعتی فنڈ کی طرف سے اٹلی کے ساتھ مالی تعاون کے مشترکہ منصوبوں کی تعداد 12 تک پہنچ گئی ہے جس کی کل مالیت کا تخمینہ99 ملین ڈالر ہے۔