غزہ : اسرائیلی جنگ کے 15 ماہ بعد فلسطینیوں نے اپنے پیاروں کی بےگور و کفن لاشیں اٹھانا شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

حالیہ جنگ بندی معاہدے کے بعد ہو سکتا ہے کہ اسرائیلی بمباری اور بندوقوں و توپ خانوں کی گھن گھرج خاموش ہوجائے۔ لیکن غزہ کے رہنے والے فلسطینی محمود ابودلفہ جیسے بے شمار لوگوں کی اذیت کے خاتمے میں بہت وقت لگ سکتا ہے۔

ابودلفہ کی بیوی اور پانچ بچے اسرائیلی جنگ کے ابتدائی مہینوں میں اپنے ہی گھر کے ملبے تلے پھنس کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ جن کی شہادت کے بعد ابودلفہ آج تک ان کا چہرہ بھی نہیں دیکھ سکا کہ ان کی لاشیں اب بھی ملبے کے نیچے دبی ہیں۔

ابو دلفہ کے بچے اور بیوی ان کے خاندان کے 35 افراد میں شامل تھے جنہیں دسمبر 2023 میں غزہ کے علاقے شجاعیہ میں اسرائیل کی فوج نے بمباری سے نشانہ بنایا تھا۔

ابو دلفہ کہہ رہے تھے ہمارے خاندان کی لاشیں گر رہی تھیں اور بمباری جاری تھی لیکن ہم صدف تین لاشیں نکال سکے تھے۔ میرے بچے اب بھی ملبے کے نیچے دبے ہیں۔ اب میں جنگ بندی کے بعد ان کی لاشیں نکالنے کے لیے واپس آگیا ہوں اور میں نے غزہ کے شہری دفاع کے شعبے سے مدد حاصل کی ہے۔ لیکن جنگ سے کی گئی تباہ کاری نے بہت مشکل بنا دیا ہے۔ ہمارے پاس اپنے شہیدوں کی لاشیں نکلانے کے لیے سامان نہیں ہے۔ ہم ملبہ کی کھدائی کر سکتے ہیں نہ اسے ہٹا سکتے ہیں۔ ہمارے پاس ایسے آلات نہیں ہیں جن سے ہم لاشیں نکال سکتے ہیں۔

ابو دلفہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو اپنی یہ دکھ بھری کہانی سنا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ میری بیوی اور پانچ بچے سب بمباری سے چلے گئے۔ جن میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔

خیال رہے مسلمانوں میں اپنے فوت شدگان یا شہداء کی تدفین کی جاتی ہے اور تاخیر کو پسند نہیں کیا جاتا لیکن یہ فلسطین کے جنگ زدہ مسلمان 15 ماہ کی جنگ کے دوران اس پوزیشن میں شاید ہی آسکے ہوں کہ وہ اپنے عزیزوں کی لاشوں کو ملبے سے نکال کر تجہیز و تکفین کر سکے ہوں۔

ابو دلفہ کہہ رہے تھے کہ مجھے امید ہے کہ میں ملبے سے نکال کر اپنے بچوں اور بیٹیوں کی قبریں بنا سکوں گا۔ میں دنیا سے بس یہی کہتا ہوں کہ مجھے گھر نہ بنا کر دے مجھے ملبے کے نیچے سے لاشیں نکالنے سے نہ روکے اور مجھے ان کی قبریں بنانے دے۔ ہو سکتا ہے کہ میں انہیں نکال کر ان کی ایک ہی قبر بنا دوں۔

یاد رہے اتوار کے روز سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے غزہ کی سول ایمرجنسی سروسز کے شعبے نے اب تک ملبے کے ڈھیروں کے نیچے سے 200 فلسطینیوں کی لاشیں نکالی ہیں اور ملبہ کے ان ڈھیروں کے نیچے سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔

ایمرجنسی سروسز کے ترجمان محمد باسل نے کہا 'ملبے کے نیچے سے لاشیں نکالنے کا عمل غیر معمولی طور پر بڑا چیلنج ہے۔ ہمارے پاس ایسی مشینری نہیں رہی ہے کہ ہم ملبہ ہٹا سکیں کیونکہ اسرائیل کی فوجی بمباری نے ہمارے ہر ہر شعبے کے سول انفراسٹرکچر کو ہدف بنا کر تباہ کیا ہے۔ ہمارے اس محکمہ کے کم از کم ایک سو اہلکار بھی اس بمباری کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔

محمود باسل کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا ایک اندازے کے مطابق ملبے کے نیچے دس ہزار لاشیں بے گور و کفن پڑی ہیں۔

اقوام متحدہ کے اداروں کا اندازہ ہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے گھروں کی تباہی کے نتیجے میں بننے والے ملبے کو اٹھانے میں 21 سال لگ سکتے ہیں اور اس کام کے لیے 1 ارب 20 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہوگی۔

ان معاملات کو دیکھنے والے ذریعے نے 'رائٹرز' کو بتایا 'مصر نے کچھ انجنیئرنگ وہیکلز سڑکوں کی مرمت کے لیے بارڈر کے آس پاس بھیجی ہیں۔ لیکن ملبہ اٹھانے کا کام اور انفراسٹرکچر کو بحال کرنے کا کام بہت طویل وقت چاہے گا اور ابھی اس کی شروعات نہیں ہوئی۔

یاد رہے ابو دلفہ کی طرح کے ہزاروں لوگ اپنے بچوں ، ماؤں ، بیٹیوں کی ملبے کے نیچے پڑی ہوئے بے گور و کفن لاشیں تلاش کرنے کے لیے غزہ کے مختلف علاقوں میں مصروف ہیں۔

68 سالہ رباح ابولیس نے کہا اس کا بیٹا اشرف اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہو گیا تھا لیکن اس کی لاش نہیں نکال سکا۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کی لاش ملبے سے اٹھا کر قبر میں دفنا سکوں ۔

مجھے اندازہ ہے کہ میرے بیٹے کی لاش ملبے کے کس حصے میں پڑی ہے لیکن اس کے ساتھ دوسری درجنوں لاشیں بھی ہیں ان سب کے لیے کوئی قبر نہیں ۔

68 سالہ باپ نے کہا میں جنگ بندی کے بعد اس جگہ پر گیا ہوں اور میں نے اپنے ںیٹے سے کہا ہے مجھے معاف کر دینا میں یہاں موجود نہیں تھا۔ میں تمہیں قبر نہیں دے سکا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size