لبنانی فوج کو'بااختیار'بنانے اور حزب اللہ کو باہر رکھنے کے لیے دوبارہ اسرائیلی فوج تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق جنوبی لبنان کے کئی دیہاتوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ میں نے حال ہی میں لبنانی فوج کی موثر تعیناتی کو بتدریج فعال کرنے اور جنوبی لبنان سے حزب اللہ کو ختم کرنے اور اسے پیچھے ہٹانے کے لیے اپنی افواج کو مختلف مقامات پر دوبارہ تعینات کیا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے شمالی سرحد پر حزب اللہ کی افواج کی دوبارہ تعیناتی کو مسترد کر دیا۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے زور دے کر کہا ہے کہ ہ حزب اللہ اور اس کے ہتھیار اب بھی سرحدی علاقوں میں موجود ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے اتوار کے روز چھ لبنانیوں کو رہا کر دیا جنہیں فوج نے رہائشیوں کی آمد کے دوران اتوار کے روز حولہ اور مرکبا کے قصبوں سے حراست میں لیا تھا۔

لبنانی شہری جنگ بندی کے معاہدے میں بیان کردہ 60 دن کی مدت کے خاتمے کے بعد جنوبی لبنان میں اپنے زیر قبضہ دیہاتوں کو واپس جانے کے لیے پرسوں روانہ ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے اس وقت شہریوں پر گولیاں چلا ئیں جب اپنے قصبوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے اس موقعے پر متعدد لبنانی شہریوں کو بھی حراست میں لے لیا۔

شہریوں پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 6 خواتین سمیت 26 افراد ہلاک اور 14 خواتین اور 12 بچوں سمیت 150 کے قریب افراد زخمی ہو گئے۔

حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اسرائیل نے گذشتہ جنگ کے دوران اس کے سات جنگجوؤں کو گرفتار کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ لبنان اسرائیل اور امریکہ کی حکومتیں سات اکتوبر کے بعد پکڑے گئے لبنانی قیدیوں کی واپسی کے لیے بات چیت شروع کریں گی۔

گذشتہ روز لبنانی فوج کی کمان نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ فوج نے جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کرنے والی پانچ رکنی کمیٹی کے ساتھ مل کر جنوبی لبنان کے مشرقی سیکٹر اور دیگر سرحدی علاقوں میں دیر میماس قصبے میں نفری تعینات کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان 26 نومبر کو جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اسرائیل نے اس کی پاسداری نہیں کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں