سعودی عرب میں ہیریٹیج اتھارٹی نے زیر آب ثقافتی ورثے کے مقامات کے سروے اور دستاویز کاری کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس سروے کا مقصد زیرِ آب ثقافتی ورثے کے مقامات کا مطالعہ اور انہیں دستاویز کرنا ہے اس مرحلے کا آغاز قومی منصوبوں کی ایک سیریز کے تحت کیا جارہا ہے۔ مملکت کے ثقافتی ورثے کو اس کے تمام اجزاء کے ساتھ محفوظ کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا نقطہ نظر تیار کیا جارہا ہے جو ڈوبے ہوئے ورثے کی پائیداری کو یقینی بناتا ہے۔
یہ کام کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی اور اٹلی کی نیپلز یونیورسٹی کے تعاون سے اور اسکندریہ یونیورسٹی میں سمندری آثار قدیمہ اور زیر آب ثقافتی ورثے کے مرکز کی نمائندگی کے ساتھ بین الاقوامی شرکت سے ہو رہا ہے۔ جنوبی کوریا میں نیشنل میری ٹائم ہیریٹیج ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور جنوبی افریقہ میں یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن بھی اس پروگرام میں شریک ہیں۔ اس کام کے ذریعے جدہ اور القنفذہ کے گورنروں کے درمیان ہدف بنائے گئے مقامات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
درست معلومات فراہم کرنے کے علاوہ زیر آب آنے والے ورثے کے مقامات کے انتظام اور حفاظت میں معاون ثابت ہونے والی تحقیق اور سائنسی مطالعات کو وسعت دی جائے گی۔ یہ پروگرام اس ثقافتی ورثے کو دستاویزی شکل دینے اور اس کے بارے میں علم کو بڑھانے میں معاون ہوگا۔
میرین سروے اور ایکسپلوریشن
پراجیکٹ کا کام ایک جامع آثار قدیمہ کے سروے کے ذریعے شروع ہوتا ہے جو سروے اور سمندری کھوج سے متعلق جدید تکنیکوں کا استعمال کر رہاہے۔ سروے کے کام میں سمندری فرش کا تجزیاتی مطالعہ بھی شامل ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحل پر تاریخی بندرگاہوں کے علاوہ سائنسی منصوبے کے جغرافیائی دائرہ کار میں ڈوبے ہوئے بحری جہاز کے ملبے کی ویڈیو بنانا بھی شامل ہے۔ یہ علاقہ جدہ اور القنفذہ کی گورنریوں کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔
توقع ہے کہ اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کے نتیجے میں جامع سائنسی رپورٹس سامنے لائی جائیں گی۔ ان رپورٹس میں آثار قدیمہ کے مقامات اور پائے جانے والے شواہد کا تجزیہ بھی شامل ہوگا۔ ان مقامات کے انتظام اور تحفظ کا منصوبہ بھی پیش کیا جائے گا۔ دریافت شدہ زیر آب ورثے کے عناصر کی جامع سائنسی دستاویزات کے علاوہ قومی آثار قدیمہ کے رجسٹر میں شامل کرنے کے لیے ایک مربوط ڈیٹا بیس فراہم کیا جائے گا۔
زیر آب ثقافتی ورثے کا تحفظ
واضح رہے سعودی عرب نے 2015ء میں زیر آب ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے یونیسکو کنونشن (2001) کی توثیق کی تھی۔ یہ زیر آب ثقافتی ورثے کے لیے ایک مرکز قائم کرکے سعودی کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق زیر آب ثقافتی ورثے کے شعبے میں قومی پالیسیوں کو سامنے لاتا ہے۔ سعودی عرب کا یہ اقدام قومی ورثے کے شعبے میں پائیدار ترقی کے حصول کے لیے مملکت کے "ویژن 2030" کے تحت ہے۔
سعودی عرب کا زیر آب ثقافتی ورثہ مرکز - جس کا اعلان وزیر ثقافت اور اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین نے کیا تھا - زیر آب ثقافتی ورثہ سے متعلق سائنسی منصوبوں کو نافذ کرتا ہے۔ مرکز خاص طور پر دستاویزات، تحقیق، خصوصی سائنسی مطالعات اور انتظامات کے شعبوں میں کام کو بڑھاتا ہے۔ مرکز کا مقصد بہترین بین الاقوامی طریقوں اور معیارات کے مطابق سمندری ماحول کی سالمیت کے تحفظ کے عزم کے ساتھ ان مقامات کو محفوظ کرنا بھی ہے۔ اسی طرح مرکز کے پروگرام ماہرین اور فیصلہ سازوں کو ضروری ڈیٹا فراہم کرتے اور زیر آب ثقافتی ورثے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں تعاون کرتے ہیں۔ یونیورسٹیوں اور خصوصی مراکز کے ساتھ تعاون کے ذریعے اس شعبہ میں بین الاقوامی کوششوں کو مضبوط کیا جاتا ہے۔
-
ٹرمپ کے زیر قیادت امریکہ، سعودی تعلقات کی بُنت کیسے ہو گی؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلاف کرنے والے بھی کم از کم یہ امر تسلیم کرتے ہیں کہ ٹرمپ کے ...
سیاست -
سعودی عرب : اٹلی کے ساتھ 10 ارب ڈالر کے صنعتی معاہدوں پر دستخط
سعودی عرب کے ولی عہد اور اٹلی کی وزیر اعظم کے درمیان اتوار کے روز ہونے والی اہم ...
مشرق وسطی -
سعودی ولی عہد کے ساتھ بات چیت وسیع اور نہایت اہم رہی : اطالوی وزیر اعظم
سعودی عرب کے علاقے العلا میں ایک اعلی سطح کا سعودی - اطالوی اجلاس ہوا جس میں ...
مشرق وسطی