ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے منگل کے روز غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے لوگوں نے اسرائیل کو اپنے علاقے میں گھٹنے ٹیکنے ہر مجبور کر دیا ہے۔ وہ غزہ میں ہونے والی حالیہ جنگ بندی کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا اطلاق تقریباً ساڑھے 15 ماہ کی طویل جنگ کے بعد ہوا ہے۔ جس کے بعد اب یہ ممکن ہوا ہے کہ اسرائیل کے قیدیوں کو حماس غزہ سے رہا کر دے گی۔
19 جنوری سے اب تک 7 اسرائیلی قیدیوں کو حماس نے غزہ سے رہا کیا ہے۔ جبکہ اس کے بدلے میں بیسیوں فلسطینی اسیران کو اسرائیل کی جیلوں سے رہائی ملی ہے۔
علی خامنہ ای منگل کے روز تہران میں حکام کے ساتھ ایک اجلاس میں موجود تھے۔
منگل ہی کے روز ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز پر تنقید کی کہ غزہ کے رہنے والوں کو مصر اور اردن میں منتقل کر دیا جانا چاہیے۔
'سیاسی و جغرافیائی مداخلت کاری کے ذریعے فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور نہیں کیا جا سکے گا۔' ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے اس امر کا اظہار سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنی ایک پوسٹ میں کیا ہے۔
انہوں نے کہا 'غزہ فلسطینیوں کا گھر ہے اور انہوں نے اپنے اس گھر کی بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔'
-
غزہ کی پٹی کے شمال میں واپس آنے والے 90% افراد گھروں سے محروم ہیں : حماس
غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینیوں کی شمال کی جانب واپسی کا سلسلہ آج دوسرے روز بھی ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا نامہ نگار گرفتار کرلیا
ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن تنظیم کے سربراہ پیمان جبلی نے اسرائیل کے ہاتھوں ایرانی ...
مشرق وسطی -
غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کا آغاز
اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کے دوسرے مرحلے کے ...
مشرق وسطی