غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات شروع ہو گئے ہیں، یہ بات اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتائی۔ ادارے کے مطابق حماس آئندہ دنوں میں رفح کی گزر گاہ کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے تا کہ اس کے زخمیوں کو علاج کے لیے بھیجا جا سکے اور جنگ کے دوران میں غزہ کی پٹی سے کوچ کر جانے والے فلسطینیوں کو واپس لایا جا سکے۔

حماس تنظیم کے رہنما سامی ابو زہری کا کہنا ہے کہ وساطت کاروں نے فریقین کی نبض دیکھنا شروع کر دی ہے تا کہ غزہ معاہدے میں دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جا سکے۔ ابو زہری کے مطابق غزہ کی پٹی کا مستقبل صرف فلسطینیوں کا معاملہ ہے اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اس معاہدے کے اختتام تک چلتے رہیں۔ ابو زہری نےو اضح کیا کہا کہ غزہ کی پٹی انتظامی خلا سے دوچار نہیں ہے، بلکہ وہ اس حکومت کی تشکیل کا خیر مقدم کریں گے جس پر فلسطینیوں کی موافقت ہو۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینیوں کی شمال کی جانب واپسی کا سلسلہ آج دوسرے روز بھی جاری ہے۔ حماس تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ اس کی گنتی کے مطابق گذشتہ روز تقریبا تین لاکھ بے گھر فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی کے شمال میں اپنے گھروں کو واپسی ہوئی۔

ادھر غزہ میں سرکاری انفارمیشن بیورو کے سربراہ نے بتایا ہے کہ واپس آنے والے 90% افراد اپنے گھروں سے محروم ہیں جو ان کا ٹھکانا بن سکیں۔

واضح رہے کہ اتوار کے روز نافذ العمل ہونے والے فائر بندی معاہدے کی رو سے دو روز قبل حماس نے قیدیوں کی دوسری کھیپ میں چار اسرائیلی خواتین فوجیوں کو رہا کیا۔

اس کے مقابل اسرائیل نے اپنی جیلوں میں قید 200 فلسطینی اسیروں کو آزاد کیا۔

اس سے قبل پہلی کھیپ میں گذشتہ اتوار کو 3 اسرائیلی خواتین کو تقریبا 90 فلسطینی گرفتار شدگان کے مقابل رہا کیا گیا تھا۔

فائر بندی معاہدہ تین مراحل پر مشتمل ہے۔ اس میں لڑائی کی کارروائیوں کا روکا جانا اور گنجان علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلا شامل ہے۔

معاہدے کا پہلا مرحلہ 6 ہفتے جاری رہے گا۔ اس دوران میں غزہ سے 33 یرغمالیوں کو آزاد کیا جائے گا۔ اس کے مقابل اسرائیل اپنی قید میں موجود تقریبا 1900 فلسطینی گرفتار شدگان کو رہا کرے گا۔

سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے بڑے اور غیر متوقع حملے کے نتیجے میں اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1210 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دوران میں 251 افراد کو قیدی بنا لیا گیا تھا جن میں سے 91 یرغمالی ابھی تک غزہ کی پٹی میں موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ان میں سے 34 یرغمالی ہلاک یا فوت ہو چکے ہیں۔

حماس کے حملے کے نتیجے میں اسرائیل نے جواب میں غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کر دی۔ غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اس جنگ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 47,283 فلسطینی شہید ہو گئے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

غزہ کی پٹی میں بے گھر افراد اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں تاہم ان میں اکثر لوگوں کو ملبے کے ڈھیر اور کٹی پھٹی لاشوں کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں