شانی وزیر خزانہ محمد ابازید نے بدھ کے روز دمشق میں موجود جرمنی کے ناظم الامور سے ملاقات کی ہے۔ آٹھ دسمبر 2024 سے اب تک کسی یورپی سفارت کار کے ساتھ وزیر خزانہ کی پہلی ملاقات تھی۔
یہ ملاقات یورپی یونین کی طرف سے اس اعلان کے بعد ہوئی ہے کہ 'یورپی یونین نے شام کے خلاف پابندیاں نرم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔' یاد رہے یورپی یونین کی طرف سے شام کی اہم شخصیات کے علاوہ معاشی شعبے کے مختلف اداروں پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ شامی برآمدات پر بھی پابندیاں عاید ہیں۔
شامی وزیر خزانہ نے جرمن ناظم الامور سے گفتگو میں کہا ' جرمنی کے سامنے شام کا جو تاثر اس سے پہلے بنا ہوا ہے وہ اب تبدیل ہو جائے گا۔' جرمنی کے ناظم الامور نے کہا مجھے بھی یہاں موجود ہو کر خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ 13 برسوں کے بعد ایک جرمنی کا سفارتکار یہاں مل رہا ہے۔
جرمنی ناظم الامور نے کہا ' ہم اپنی موجودگی کے ذریعے سفارتی تعلقات کو نئے سرے بحال کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ہم دو سوال اور دو پیغامات شام کی نئی رجیم کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ دو طرفہ سفارتی اور معاشی تعلقات کی شروعات ہو سکیں۔'
ان کا کہنا تھا یورپی حکومتیں شام کی معاشی بحالی اور بہتری چاہتی ہیں۔' تاہم بہت سوں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو بتدریج آگے بڑھنا چاہیے۔ اس طرح شام کی نئی رجیم کی بہتری کی طرف بڑھنے کی حوصلہ افزائی اور ترغیب رہے گی۔