ٹرمپ کے داماد کا غزہ کے لوگوں کو مصر اور اردن منتقل کر نے کا عندیہ
لیک شدہ دستاویز میں انکشاف
چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ’’فلسطینیوں کو غزہ سے مصر یا اردن منتقل کرنے‘‘ کا خیال بہ ظاہر محض زبان کا پھسلنا نہیں تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اندر خانہ اس حوالے سے منصوبہ بنا چکے ہیں۔
گذشتہ جمعرات کی شام وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ قاہرہ اور عمان دونوں ممالک کے فیصلہ کن انکار کے باوجود وہ تباہ شدہ غزہ کے لوگوں کو وصول کرنا قبول کریں گے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خیال پر امریکی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان شاید حال ہی میں بات ہوئی تھی۔
"سوچا سمجھا منصوبہ"
ٹرمپ کے بیانات کی بازگشت سے قبل ان کے داماد جیرڈ کشنر نے گزشتہ سال فروری میں ایسا ہی ایک بیان دیا تھا۔انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ اگر غزہ کی پٹی کو شہریوں سے خالی کر دیا گیا تو غزہ میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے کیونکہ اس کا محل وقوع اس کے طویل سمندری پٹی بہت دلکش ہے۔
جب کہ ایک اسرائیلی سیاسی ذریعے نے دو روز قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ امریکی صدر کے بیانات محض زبان کا پھسلنا نہیں ہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں جس پر وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ میں سنجیدگی سے بحث ہو رہی ہے۔ اسرائیل کے چینل 12 کے سیاسی مبصر امیت سیگل جن کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر اور دائیں بازو کے دیگر عہدیداروں سے قریبی تعلقات ہیں نے کہا کہ سینئر اسرائیلی حکام نے ان کے خیالات کے بارے میں معلومات کی تصدیق کی۔ ان عہدیداروں نے کہا کہ "غزہ سے لوگوں کی منتقلی کا منصوبہ ہے۔ ہم انہیں عارضی یا مستقل طورپر اردن اور مصر منتقل کرسکتے ہیں‘‘۔
اسرائیلی انٹیلی جنس پلان
غزہ میں جنگ شروع ہونے کے چند دن بعد سات اکتوبر 2023ء کو اسرائیلی انٹیلی جنس نے فلسطینی پٹی سے شہریوں کو، جن کی تعداد 2.3 ملین تھی، مصری جزیرہ نما سینا میں "کیمپوں" میں منتقل کرنے کے لیے ایک منصوبہ یا دستاویز تیار کی تھی۔
یہ دستاویز سب سے پہلے مقامی نیوز سائٹ سیچا میکومیٹ کی طرف سے رپورٹ کی گئی تھی. اس میں بتایا کہ غزہ سے شہریوں کو شمالی سیناکی "خیمہ بستی " میں منتقل کرنے، پھر مستقل شہر اور ایک انسانی راہداری کی تعمیر کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
تاہم نیتن یاہو کے دفتر نے بعد میں رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض فرضی کاغذ قرار دیا تھا۔
اس منصوبے نے مصر کے دیرینہ اندیشوں کو مزید گہرا کر دیا کہ اسرائیل غزہ کو ایک مصری مسئلہ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔