’بریکس‘ واحد کرنسی پر ٹرمپ کی دھمکیوں پر روس کا رد عمل

انہوں نے زور دیا کہ بات چیت نئے سرمایہ کاری کے پلیٹ فارمز کے قیام کے گرد گھومتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ بریکس گروپ مشترکہ کرنسی کے قیام پر بات نہیں کر رہا ہے بلکہ یہ بحث سرمایہ کاری کے نئے پلیٹ فارم بنانےکے گرد گھوم رہی ہے۔

روسی سپوتنک نیوز ایجنسی کے مطابق پیسکوف نے کہا کہ "ہمیں صدر ولادی میر پوتین کے الفاظ یاد رکھنے چاہئیں، جو ہمارے لیے زیادہ اہم ہیں۔ لہٰذا بریکس ممالک "مشترکہ سرمایہ کاری کے نئے پلیٹ فارم بنانے کی بات کرتے ہیں جو تیسرے ممالک میں مشترکہ سرمایہ کاری کی اجازت دیتا ہے"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو دھمکی دی تھی کہ اگر بریکس ممالک نے بین الاقوامی تجارت میں امریکی ڈالر کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا تو ان پر 100 فیصد محصولات عائد کر دیں گے۔

ٹرمپ نے اپنے تھروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ "یہ خیال کہ بریکس ڈالر سے دور جانے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ ہم کھڑے ہیں اور دیکھتے ہیں۔ ہم ان بہ ظاہر دشمن ممالک سے اس عزم کا مطالبہ کریں گے کہ وہ کوئی نیا نہیں بنائیں گے اور نہ ہی وہ عظیم امریکی ڈالر کی جگہ لینے کے لیے کسی دوسری کرنسی کی حمایت کریں گے۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان پر 100 فیصد محصولات کا عاید کریں گے۔ آپ کو عظیم امریکی معیشت کو الوداع کہنے کی توقع کرنی چاہیے"۔

بریکس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

اس گروپ نے مصر، ایتھوپیا، ایران اور متحدہ عرب امارات کو 2023 میں اپنی رکنیت میں شامل کیا اور انڈونیشیا جنوری کے شروع میں اس کا رکن بنا ہے۔

بریکس کے پاس مشترکہ کرنسی نہیں ہے، لیکن اس کے بارے میں طویل عرصے سے جاری بات چیت نے یوکرین کی جنگ پر مغرب کی طرف سے روس پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد کچھ زور پکڑا۔

ٹرمپ نے لکھا کہ "اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ بریکس بین الاقوامی تجارت یا کسی اور جگہ امریکی ڈالر کی جگہ لے لے۔ کوئی بھی ملک جو کوشش کرتا ہے کہ وہ امریکہ کو الوداع کہہ رہا ہے!"

ٹرمپ نے بریکس گروپ کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کینیڈا اور میکسیکو پر یکم فروری سے 25 فی صد محصولات عائد کرنے کے اپنے وعدے کے مطابق فیصلے کرنے والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں