بنگلہ دیش نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں پناہ لیے ہوئے سابق وزیر اعظم حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے بارے میں بیان بازی سے روکے۔ بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ حسینہ واجد کے بھارت میں بیٹھ کر دیے جانے والے بیانات جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد ہیں۔
سابق وزیر اعظم بنگلہ دیش پانچ اگست 2024 کو عوامی احتجاج کے بعد اقتدار چھوڑ کر بھارت بھاگ آئی تھیں۔ اس سے پہلے ان کی حکومت نے ایک ہزار سے زائد نوجوان مظاہرین کو پولیس اور فوج کی قوت سے ہلاک کروا دیا تھا۔
بدھ کے روز حسینہ واجد نے اپنے حامیوں کو بھارت سے مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگلہ دیشی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا تھا کہ بنگلہ دیشی حکومت ایک غیر آئینی حکومت ہے اور اس نے ناجائز طریقے سے اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔
اس دوران بنگلہ دیش کے ہزاروں مظاہرین نے حسینہ واجد کے اپنے حامیوں سے خطاب میں رکاوٹ ڈالی اور حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمٰن کے گھر کو آگ لگا دی۔
حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمٰن کو بنگلہ دیش کا بانی سمجھا جاتا رہا ہے جبکہ حسینہ واجد کے مخالف سیاسی کارکن شیخ مجیب کو یہ ٹائٹل دینے کے لیے اب تیار نہیں ہیں۔
بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے حسینہ واجد کے اس خطاب کے بعد ڈھاکہ میں موجود بھارتی ہائی کمشنر کو تحریری نوٹ پیش کیا ہے۔ جس میں بھارت سے حسینہ واجد کے خطاب کرنے پر مایوسی اور تشویش ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے ہمیں اس پر سخت تحفظات ہیں۔
بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے اس بیان کو اپنے 'فیس بک پیج' پر بھی پوسٹ کیا ہے۔
بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس سلسلے کو فوری روکے۔ تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان افہام و تفہیم اور باہمی احترام کا رشتہ قائم رہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ حسینہ واجد بھارت میں بیٹھ کر اس طرح کے جھوٹے سچے بیانات نہ دے ۔
اس پر تبصرے کے لیے حسینہ واجد سے رابطے میں کامیابی نہیں ہوئی ہے۔
بھارت نے بھی اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا یے۔ تاہم بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندیر جیسوال نے مجیب الرحمٰن شیخ کے گھر کو تباہ کیے جانے کی مذمت کی ہے اور اسے غنڈہ گردی کہا ہے۔
بھارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ جو لوگ بھی آزادی کی جدوجہد کی قدر کرتے ہیں۔ وہ بنگلہ دیش کی شناخت اور فخر کو پروان چڑھانے والے شخص کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس لیے اس کی رہائش گاہ سے بھی واقف ہیں۔
واضح رہے شیخ مجیب الرحمٰن کو بھارتی فوج کی مدد سے بنگلہ دیش کے قیام کے صرف چار سال بعد 1975 میں ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا تھا۔
حسینہ واجد نے اپنے دور حکومت میں ان کے گھر کو ایک عجائب گھر کی شکل دے دی تھی۔
ادھر جمعہ کے روز بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھیں اور حسینہ واجد اور کسی بھی شخص کی جائیداد و املاک کو نشانہ نہ بنائے۔
اس طرح کے کسی حملے سے حسینہ واجد اور ان کے ساتھیوں کو بین الاقوامی برادری کے سامنے جھوٹی کہانیاں سنا کر ہمدردی سمیٹنے کا موقع ملے گا۔
-
وژن 2030 بھارت کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو وسعت دیتا ہے: سعودی وزیر صنعت
صنعت اور معدنی وسائل کے وزیر بندر الخریف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سعودی وژن ...
بين الاقوامى -
بنگلہ دیشی عوام کا شیخ مجیب کی یادگار اور رہائش گاہ پر دھاوا، توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگادی
بنگلہ دیش میں مظاہرین نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے شیخ مجیب کی یادگار اور معزول ...
بين الاقوامى -
پاکستان کی بحری مشق امن-25 کا آغاز: سعودی عرب کا شرکت پر اظہارِ فخر
سات سے 11 فروری تک منعقدہ مشق میں
پاكستان