ماہر موسمیات پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ المسند نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب میں ’’ایام العجوز‘‘ یعنی بوڑھے کے دن اپنے سرد موسم کے لیے مشہور ہیں۔ یہ دن 26 فروری سے شروع ہو کر 4 مارچ تک جاری رہتے ہیں۔ یہ وہ سات دن ہیں جو مرسم سرما کے آخر میں آتے ہیں۔ ان میں شدید سردی کی ایک مختصر لہر آتی ہے۔ یہ موسم سرما کےجانے کےآخر میں آتے ہیں اس بنا پر ان دنوں کو ’’بوڑھے کے ایام‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عبد اللہ المسند نے ’’ ایکس‘‘ پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے مزید بتایا کہ 26 فروری سے 4 مارچ تک کی آخری سردی کی لہروں کا تعین کرنا علمبرداروں کا ایک پرانا مشاہدہ ہے۔ موسمیاتی اتار چڑھاو کی نگرانی میں ان کی درستی کی نشاندہی کی جاتی ہے لیکن حقیقت میں حالیہ سردی کی لہروں کو ایک مقررہ وقت یا مدت تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ سردی پہلے سے ہی نہیں آئے گی۔
نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی نے ہفتہ کے روز سعودی عرب کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت میں مسلسل کمی کی توقع ظاہر کی ہے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کے کچھ حصوں، الجوف کے علاقوں، شمالی اور مشرقی سرحدوں، ریاض اور جنوبی علاقوں تک پھیلی ہوئی ہواؤں کے اثرات کا بھی اشارہ دیا ہے۔ مرکز نے جازان اور عسیر کے علاقوں کے ساتھ ساتھ تبوک کے علاقوں میں رات اور صبح کے اوقات میں دھند پڑنے کے امکان سے بھی خبردار کردیا ہے۔
-
جدہ میں میڈ ان پاکستان نمائش: وزیرِ تجارت کی سعودی اداروں کو سرمایہ کاری کی دعوت
سعودی اداروں کے لیے آئی ٹی، توانائی اور صحت کے شعبوں میں مواقع موجود
پاكستان -
سعودی عرب میں موسمی بارشیں سے خشک زمین کو سبز چراگاہوں اور قدرتی مقامات میں تبدیل
موسمی بارشوں نے سعودی عرب کی بعض بصورتِ دیگر خشک زمینوں کو سرسبز و شاداب ماحول میں ...
بين الاقوامى -
کرسٹیانو رونالڈو نے سعودی عرب میں اپنی 40 ویں سالگرہ منائی
رونالڈو کے لیے بولیورڈ ورلڈ میں دی لائٹ بال روشن کی گئی
بين الاقوامى