پوپ فرانسس کو بھی امریکہ سےتارکین وطن کی ملک بدری قبول نہیں، ٹرمپ انتطامیہ کو سرزنش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

کیتھو لک مسیحیوں کے فرقے کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے منگل کے روز امریکہ سے بڑی تعداد میں تارکین وطن کی بے دخلی اور ملک بدری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس منصوبے کو تقریباً ناقابل عمل قرار دے کر ٹرمپ انتظامیہ کی سرزنش کی ہے۔

واضح رہے صدر ٹرمپ نے بر سر اقتدار آتے ہی امریکہ میں تارکین وطن کے خلاف سخت اقدام کرتے ہوئے انہیں جبری ڈی پورٹ کرنا شروع کر دیا اور سرحد پر میکسیکو کی جانب مزید اقدامات کیے۔ نیز تارکین وطن کے نومولود بچوں کو امریکہ میں شہریت دینے کے دیرینہ حق سے بھی محروم کر دیا۔ دوسری جانب غزہ سے 20 لاکھ فلسطینیوں کو اپنی ہی سرزمین سے جبری طور پر مصر اور اردن منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔

پوپ نے پہلے معاملے پر امریکی مذہبی پیشواؤں کو خط لکھ کر اس کا نوٹس لیا ہے۔

پوپ فرانسس جو عام طور پر سیاسی موضوعات پر بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں کہ ان کے مسیحی مذہبی فلسفے میں مذہب کو سیاست سے دور رکھا جاتا ہے۔ لیکن انہوں نے بھی اسے انسانی مسئلے کے طور پر دیکھتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی ملک بدری اور اپنے ملک سے جبری نقل مکانی ان لوگوں کو ان کے موروثی وقار سے محروم کر دے گی۔

پوپ فرانسس نے اس سلسلے میں امریکی مذہبی رہنماؤں اور بشپس کے نام لکھے گئے خط میں لکھا ہے کہ اس جبری بے دخلی اور انخلا سے کمزوروں کو نقصان پہنچے گا۔

خیال رہے پوپ فرانسس خود بھی لاطینی امریکہ سے تعلق رکھنے والے پہلے مسیحی پوپ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے دنیا کے ملک تنازعات، افلاس اور موسمیاتی آفات و مصائب سے نکل کر بھاگنے اور پناہ کے طلبگاروں کا جہاں تک ان کے لیے ممکن ہو ان کا خیر مقدم کریں نہ کہ انہیں رد کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں