’غزہ میں ہر قیمت پر جنگ کو دوبارہ چھڑنے سے روکا جائے ورنہ انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے‘
’ یو این‘ سیکرٹری جنرل کی غزہ کی صورت حال پر وارننگ، تمام فریقین سے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد پر زور
فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی روکنے کے اعلان کے ایک دن بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے غزہ میں ہر قیمت پر جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خطرے سے خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ ایک بڑے سانحے کا باعث بن سکتی ہے۔
پیرس سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں گوٹیرس نے پائیدار امن کے حصول کے لیے جنگ بندی اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔
"ہر قیمت پر جنگ سے گریز کریں"
گوٹیرس نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ منصوبہ بندی کے مطابق قیدیوں کی رہائی جاری رکھے۔ہمیں ہر قیمت پر غزہ میں جنگ کی طرف واپسی سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک بہت بڑے سانحے کا باعث بنے گی"۔
گوٹیرس نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق خطے کے لوگوں کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں گے۔
حماس کی وارننگ
حماس نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کی وجہ سے تا اطلاع ثانی اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی کو روک دے گی۔ حماس کے اس بیان کے بعد ایک نئے تنازعے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس ہفتے کی دوپہر تک غزہ میں تمام اسرائیلی قیدیوں کو واپس نہیں کرتی تو وہ جنگ بندی کو منسوخ کرنے
کے ساتھ حماس کے لیے جھنم کے دروازے کھولنے کی تجویز پیش کریں گے۔
انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں کو دیئے گئے بیانات میں مزید کہا کہ اگر وہ [مصر اور اردن] غزہ سے نکالے جانے والے فلسطینی پناہ گزینوں کو قبول نہیں کرتے ہیں تو وہ ان ممالک کی امداد روک سکتے ہیں۔
حماس نے شیڈول کے مطابق ہفتے کے روز کچھ اسرائیلیوں کو اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے رہا کرنا تھا تاہم نئے اعلان کے بعد اب قیدیوں کی رہائی کا عمل معطل ہوگیا ہے۔