’غزہ میں ہر قیمت پر جنگ کو دوبارہ چھڑنے سے روکا جائے ورنہ انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے‘

’ یو این‘ سیکرٹری جنرل کی غزہ کی صورت حال پر وارننگ، تمام فریقین سے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی روکنے کے اعلان کے ایک دن بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے غزہ میں ہر قیمت پر جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خطرے سے خبردار کیا ہے کہ یہ جنگ ایک بڑے سانحے کا باعث بن سکتی ہے۔

پیرس سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں گوٹیرس نے پائیدار امن کے حصول کے لیے جنگ بندی اور مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔

"ہر قیمت پر جنگ سے گریز کریں"

گوٹیرس نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ منصوبہ بندی کے مطابق قیدیوں کی رہائی جاری رکھے۔ہمیں ہر قیمت پر غزہ میں جنگ کی طرف واپسی سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ایک بہت بڑے سانحے کا باعث بنے گی"۔

گوٹیرس نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق خطے کے لوگوں کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں گے۔

حماس کی وارننگ

حماس نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کی وجہ سے تا اطلاع ثانی اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی کو روک دے گی۔ حماس کے اس بیان کے بعد ایک نئے تنازعے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس ہفتے کی دوپہر تک غزہ میں تمام اسرائیلی قیدیوں کو واپس نہیں کرتی تو وہ جنگ بندی کو منسوخ کرنے
کے ساتھ حماس کے لیے جھنم کے دروازے کھولنے کی تجویز پیش کریں گے۔

انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں کو دیئے گئے بیانات میں مزید کہا کہ اگر وہ [مصر اور اردن] غزہ سے نکالے جانے والے فلسطینی پناہ گزینوں کو قبول نہیں کرتے ہیں تو وہ ان ممالک کی امداد روک سکتے ہیں۔

حماس نے شیڈول کے مطابق ہفتے کے روز کچھ اسرائیلیوں کو اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے رہا کرنا تھا تاہم نئے اعلان کے بعد اب قیدیوں کی رہائی کا عمل معطل ہوگیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں