امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج منگل کے روز اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ الثانی سے ملاقات کریں گے۔ غالب گمان ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے ٹرمپ کی پیش کردہ تجویز کے بعد ہونے والی ملاقات میں ماحول تناؤ کا شکار ہو گا۔ ٹرمپ یہ دھمکی بھی دے چکے ہیں کہ اگر اردن نے اپنے ہاں فلسطینیوں کی آباد کاری سے انکار کیا تو امریکا اپنے اس عرب اتحادی ملک کی امداد بند کر دے گا۔
العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق شاہ عبداللہ الثانی نے واشنگٹن میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والز سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اردن کے ولی عہد شہزادہ الحسین بن عبداللہ الثانی بھی موجود تھے۔
ملاقات میں شاہ عبداللہ نے ایک بار پھر قضیہ فلسطین کے حوالے سے اردن کے ٹھوس مواقف کو دہرایا اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور جامع امن کی ضرورت پر زور دیا۔ شاہ عبداللہ نے امن کوششوں کی تائید میں امریکا کے مرکزی کردار کی اہمیت کو بھی باور کرایا۔
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک ہفتہ قبل پیش کی جانے والی تجویز پر عرب دنیا کی جانب سے منفی ردود عمل سامنے آئے۔ تجویز میں غزہ کی پٹی پر امریکی کنٹرول اور اس کی آبادی کو نکال کر جنگ سے تباہ شدہ علاقے کو "مشرق وسطیٰ کا ریویرا" میں بدل دینا شامل ہے۔
اس تجویز نے خطے کی حساس صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور اس سے اسرائیل اور حماس کے بیچ کمزور فائر بندی کے متاثر ہونے کا بھی خطرہ ہے۔
حماس تنظیم نے کل پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے اعلان تک غزہ سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو روک رہی ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ادھر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر حماس نے سات اکتوبر کو 2023 کو قیدی بنائے گئے افراد میں سے باقی تمام یرغمالیوں کو آئندہ ہفتے کی دوپہر تک آزاد نہ کیا تو وہ فائر بندی کو منسوخ کر دیں گے۔
اردن کے شاہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینی اراضی کو ضم کرنے اور فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کے کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ توقع ہے کہ اردن کے فرماں روا آج منگل کے روز ٹرمپ کو آگاہ کریں گے کہ اس نوعیت کا اقدام خطے میں شدت پسندی اور انارکی کی لہر کو جنم دے سکتا ہے اور اسرائیل کے ساتھ امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کل پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ وہ پناہ گزینوں کا استقبال کریں گے"۔ امریکی صدر کا اشارہ شاہ عبداللہ کی جانب تھا۔
ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ اگر اردن اور مصر نے انکار کر دیا تو کیا امریکا ان دونوں ممالک کی امداد روک دے گا ... اس پر ٹرمپ کا کہنا تھا "ہاں، یقینا ... کیوں نہیں ... اگر یہ دونوں ممالک آمادہ نہ ہوئے تو ممکن ہے کہ میں امداد کا سلسلہ منقطع کر دوں"۔
یاد رہے کہ سعودی عرب، شام، اسرائیل اور مغربی کنارے کے بیچ واقع اردن کی مملکت پہلے ہی بیس لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ گزینوں کا میزبان ہے جب کہ ملک کی مجموعی آبادی 1.1 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔
اردن کئی دہائیوں سے واشنگٹن پر انحصار کر رہا ہے جو اس کے لیے اقتصادی اور فوجی امداد کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس امداد کا حجم سالانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
اردن نے 1994 میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے تھے تاہم ان دونوں کے بیچ تعلقات کشیدہ رہتے ہیں۔
-
ٹرمپ کی دھمکی کی کوئی حیثیت نہیں ، معاہدے کا احترام لازم ہے : حماس
فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما سامی ابو زہری نے باور کرایا ہے کہ "امریکی صدر ڈونلڈ ...
مشرق وسطی -
’غزہ میں ہر قیمت پر جنگ کو دوبارہ چھڑنے سے روکا جائے ورنہ انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے‘
’ یو این‘ سیکرٹری جنرل کی غزہ کی صورت حال پر وارننگ، تمام فریقین سے جنگ بندی ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی قیدی کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد تل ابیب میں احتجاج، سڑکیں بند کردیں
اسرائیلی میڈیا نے منگل کے روز حماس کے زیر حراست سب سے معمر اسرائیلی قیدی 86 سالہ ...
مشرق وسطی