یمن سے تعلق رکھنے والے حوثیوں کے سربراہ عبدالمالک الحوثی نے اعلان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود غزہ پر جنگ مسلط کی تو اسرائیل پر بھی حوثی حملے شروع ہو جائیں گے۔ عبدالمالک الحوثی نے اس امر کا اظہار منگل کے روز ایک ٹی وی پر کی گئی تقریر میں کیا ہے۔
ایرانی حمایت یافتہ حوثی اس سے پہلے بھی غزہ پر اسرائیلی جنگ کے دوران اہل غزہ سے یکجہتی کے لیے اسرائیلی و دیگر جہازوں پر بحیرہ احمر میں حملے کرتے رہے۔ ان کے یہ حملے نومبر 2023 سے شروع ہو کر 19 جنوری 2025 کو ہونے والی جنگ بندی تک جاری رہے۔
اس سے پہلے انہوں نے اعلان کر رکھا تھا کہ غزہ میں جیسے ہی جنگ بندی ہو گی وہ بھی اسرائیل پر اپنے حملے بند کر دیں گے۔ اس لیے 19 جنوری سے حوثیوں نے بھی اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر حملے بند کر دیے تھے۔
حوثیوں کے اسرائیل اور اس کے اتحادی ملکوں کے جہازوں پر حملوں کے نتیجے میں بحیرہ احمر کے راستے اور آس پاس کے سمندری راستوں سے تجارت غیر معمولی طور پر متاثر ہوئی۔ امریکہ نے برطانیہ اور یورپی ملکوں کو اپنے ساتھ ملا کر حوثیوں کے یہ حملے روکنے کی ہر کوشش کر لی مگر حوثیوں نے حملے جاری رکھے۔ حتیٰ کہ امریکہ و برطانیہ نے کئی بار یمن پر بمباری کر کے حوثیوں کی حملہ کرنے کی اہلیت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ مگر حوثی حملے نہ صرف جاری رہے ، بلکہ اسرائیل کے اندر تل ابیب تک ہونے لگے۔
اب امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے حماس کو ایک بار پھر دی گئی دھمکیوں کے بعد یمنی حوثیوں نے بھی جوابی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کر دیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ پر دوبارہ حملے کیے تواسرائیل بھی حوثی حملوں کی زد میں ہو گا۔
حوثی رہنما نے منگل کے روز اپنے ٹی وی پر خطاب میں کہا' ہمارے ہاتھ بندوقوں کے ٹریگر پر ہیں۔ اگر دشمن اسرائیل نے پھر جنگ چھیڑی تو اسے بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حماس نے پیر کے روز سے اعلان کر دیا ہے کہ چونکہ جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنے میں اسرائیل مسلسل لیت و لعل کر رہا ہے اس لیے ہفتے کے روز حماس بھی قیدیوں کو نہیں چھوڑے گی۔ اس اعلان کے بعد ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں نے دھمکیاں دی ہیں کہ جنگ پھر شروع ہو جائے گی۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے اپنی فوج کو مکمل جنگی تیاری کا حکم دے دیا ہے۔