امریکا نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے التوا کے لیے تل ابیب کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
ایک امریکی عہدے دار نے "ٹائمز آف اسرائیل" اخبار کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ واشنگٹن نے اسرائیلی فوج کے حتمی انخلا کے لیے 18 فروری کی تاریخ پر کاربند رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مشرق وسطی کے لیے امریکی ایلچی کی خاتون نائب مورگن اورٹاگوس نے فائر بندی کی صورت حال جاننے کے لیے لبنان اور پھر اسرائیل کا دورہ کیا۔
اورٹاگوس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ 18 فروری کا انتظار کر رہی ہے جس کو واشنگٹن اسرائیلی انخلا مکمل ہونے کی "متعین تاریخ" کے طور پر دیکھتا ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائر بندی کا معاہدہ گذشتہ برس 27 نومبر کو نافذ العمل ہوا تھا۔ معاہدے کے مطابق جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے لیے 60 روز کی مہلت دی گئی۔ اس کے مقابل وہاں لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات ہوں گی۔
معاہدے کی رو سے حزب اللہ کو دریائے لیطانی کے جنوبی علاقے سے نکل جانا ہو گا اور وہاں پر اپنے کسی بھی بقیہ عسکری ڈھانچے کو تحلیل کرنا ہو گا۔
جنوبی لبنان سے اپنی فوج کے انخلا کے لیے اسرائیل کے سامنے 26 جنوری تک کا وقت تھا تاہم تل ابیب نے باور کرایا کہ وہ جنوب میں اضافی عرصے کے لیے اپنی فوج کو باقی رکھے گا۔ اسرائیل کے نزدیک لبنان نے معاہدے پر "مکمل طور پر" عمل درآمد نہیں کیا۔
دوسری جانب لبنان نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ معاہدے پر عمل میں "ٹال مٹول" کر رہا ہے۔ لبنان نے 27 جنوری کو اعلان کیا کہ وہ امریکی تجویز کی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ فائر بندی معاہدے پر عمل درآمد میں 18 فروری تک کی توسیع کر رہا ہے۔
لبنانی حکومت کے سربراہ (وزیر اعظم) نواف سلام نے منگل کی شام اپنی پہلی ٹیلی وژن گفتگو میں کہا تھا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل کا انخلا 18 کو نہیں بلکہ 16 فروری کو ہو جائے۔ ہم انخلا کی تاریخ سے قبل اس کو مکمل کرانے کے لیے تمام سفارتی اور سیاسی قوت اکٹھا کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک طریقہ کار موجود ہے اور ہم پنی پاسداریوں میں کوتاہی نہیں کر رہے ہیں"۔