چینی سائسندانوں نے ایک نئے راکٹ کا ڈیزائن مکمل کر لیا ہے تاکہ خلاء میں بڑے سیاروں کو بھیجنے کی تیاری مکمل کی جاسکے۔ اس نئے راکٹ کا پہلا تجربہ منگل کے روز کیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ تیاری امریکی کھرب پتی ایلون مسک کے خلاء میں بڑھتے ہوئے اثرات کا توڑ کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ بھاری وزن کے ساتھ تیزی سے خلاء میں پہنچنے والے راکٹ کی پہلی پرواز منگل کے روز شام ساڑھے پانچ بجے کی گئی۔
یہ راکٹ تجربہ وینچانگ خلائی مرکز کی رسد گاہ سے کیا گیا ۔ یہ رسد گاہ چین کے جنوبی جزیرے ہینان میں واقع ہے۔ راکٹ کا نام ' دی لانگ مارچ 8 اے ' رکھا گیا ہے۔ اس راکٹ میں ' پے لوڈ ' کی صلاحیت پہلے والوں سے زیادہ ڈیزائن کی گئی ہے۔
ابتدائی طور پر اس کی پروازوں کا تجربہ 2020 میں کیا گیا تھا۔ چین کے خلائی ٹیکنالوجی کے ادارے ' سی اے ایس سی' کے مطابق اس راکٹ کی مدد سے نچلی اور درمیانی سطح کے خلائی محور تک رسائی کو بہتر کیا جا سکے گا۔
دیگر اپ گریڈ میں ایک اوپری مرحلہ شامل ہے جو ایندھن کی بچت کرتا ہے اور سیٹلائٹ کی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ 'سی اے ایس سی' کے مطابق۔
ایک اوپری مرحلہ ایک راکٹ بوسٹر ہے جو مین لانچ وہیکل اور اوپر والے مین پے لوڈ کے درمیان فٹ بیٹھتا ہے۔
چین اس سال زمین کے نچلے مداروں میں سیٹلائٹس کی تعداد کو تیز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں درجنوں لانچوں کا شیڈول طے کیا گیا ہے کیونکہ بیجنگ سٹار لنک کے نمبروں سے میل کھاتا ہے۔
مسک کے اسپیس ایکس کی ملکیت اسٹارلنک کے پاس اس وقت مدار میں تقریباً 700 فعال سیٹلائٹ ہیں۔