ایران نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ شام کی نئی حکومت کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ یہ پیغامات بشار الاسد رجیم کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی نئی رجیم کی طرف سے موصول ہوئے ہیں۔ ایران کی طرف سے اس امر کی تصدیق ہفتہ کے روز کی گئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ارنا' نے تہران کے خصوصی ایلچی برائے شامی امور محمد رضا رؤف شیبانی کے حوالے سے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران بالواسطہ طور پر دمشق کے ساتھ رابطے میں ہے۔
شیبانی نے کہا ' ایران کو شام سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔' تاہم انہوں نے ثالثی کرنے والے ملک کے بارے میں کسی قسم کی وضاحت نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا 'ایران شام کی صورتحال کو دیکھ رہا ہے۔ ایران و شام کے تعلقات دونوں ممالک کی خودمختاری اور معاملات میں عدم مداخلت کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔
خیال رہے شیبانی شام میں ایرانی سفیر کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ شام کے مستقبل اور تقدیر کا تعین شامی عوام کو ہی کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا 'شام کا استحکام و امن ہمارے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ہم ملکی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کے خلاف ہیں۔
-
ہم شام کی حمایت کے لیے تیار ہیں: فرانسیسی صدر
شام میں سیاسی منتقلی کی حمایت کے لیے پیرس میں جمعرات کو شروع بین الاقوامی کانفرنس ...
مشرق وسطی -
شام: اسرائیلی فوج ایک بار پھر قنیطرہ کے ایک قصبے میں داخل
تقریبا ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے اسرائیل کی شامی اراضی میں فوجی کارروائیاں جاری ...
مشرق وسطی -
نیوز چینل کے سابق ڈائریکٹر کا اغوا، شامی حکومت کی جانب سے تصدیق اور مذمت
دمشق میں وزارت اطلاعات نے "الاخباریۃ السوریۃ" نیوز چینل کے سابق ڈائریکٹر صالح ...
مشرق وسطی