دمشق میں وزارت اطلاعات نے "الاخباریۃ السوریۃ" نیوز چینل کے سابق ڈائریکٹر صالح ابراہیم کے اغوا ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
آج ہفتے کے روز جاری ایک مختصر بیان میں شامی صحافی کے اغوا کی شدید مذمت کی گئی۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ وہ وزارت داخلہ کے ساتھ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
دمشق میں 10 فروری بروز پیر بعض نقاب پوش افراد باب مصلی کے علاقے سے صالح ابراہیم کو اغوا کر کے نا معلوم مقام کی طرف لے گئے۔ یہ بات شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ المرصد نے بتائی۔
اس سے قبل 22 جنوری کو حماہ شہر میں بھی نا معلوم مسلح افراد نے اغوا کی ایک کارروائی انجام دی جس کے نتیجے میں شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "سانا" کا ایک کیمرہ مین ہلاک ہو گیا۔ کیمرہ مین شہر میں موجودگی کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ کا براہ راست نشانہ بنا۔
واضح رہے کہ آٹھ دسمبر کو بشار الاسد کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے شام میں مسلح افراد کی جانب سے اغوا کی بعض کارروائیاں دیکھی گئیں۔
ادھر عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ نے باور کرایا ہے کہ وہ اغوا کی کارروائیوں یا جرائم میں ملوث کسی بھی فرد کا تعاقب اور احتساب کرے گی۔ تاہم انتظامیہ نے ساتھ ہی واضح کیا کہ یہ واقعات بھی تک محدود پیمانے پر ہیں۔
-
ہم نے دمشق کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ نہیں کیا: پہلے تصدیق کے بعد تہران کی تردید
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے اس بات کی تصدیق کرنے کے بعد کہ کوئی بھی ...
مشرق وسطی -
اردن : 13 برس بعد عمّان سے دمشق کے لیے فضائی پروازوں کا دوبارہ آغاز
اردن کی قومی فضائی کمپنی Royal Jordanian نے آج جمعے کے روز ایک بیان میں اعلان کیا ...
مشرق وسطی -
امیرِ قطر کا دورۂ دمشق: شام کی تعمیرِ نو پر تبادلۂ خیال
شام کے وزیرِ خارجہ اسد الشیبانی نے کہا کہ جمعرات کو دمشق میں قطری وفد کے ساتھ بات ...
مشرق وسطی