الخبر اور ریاض میں کامیابی سے انعقاد کے بعد فوڈ کلچر فیسٹیول جدہ کے ونڈر ڈسٹرکٹ میں 12 سے 16 فروری تک جاری ہے جس کا بہت زیادہ انتظار تھا۔
کوالٹی آف لائف پروگرام کے ساتھ شراکت میں کلینری آرٹس کمیشن کی طرف سے منعقد کردہ یہ ایونٹ طباخی (خور و نوش) کے مقامی اور بین الاقوامی تجربات کا بھرپور امتزاج پیش کرتا ہے۔
جدہ میں ہونے والے اس میلے میں چار زونز ہیں جن میں سے ہر ایک طباخی کا ایک مختلف پہلو پیش کرتا ہے۔
کھانے کے نمائش کنندگان والے حصے میں شرکاء روایتی سعودی پکوانوں سے لے کر بین الاقوامی پکوانوں تک مختلف کھانوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں جہاں ان کو انہی کے شہر میں تمام دنیا کے کھانے میسر ہیں۔
مستند چینی مشروبات اور تانگ ہو لو (کینڈیڈ فروٹ سنیک) اور ناریل کیوبز جیسی مٹھائیاں پیش کرنے والے برانڈ واؤ ٹی کے سربراہ اور شریک بانی لیو وین نے کہا: "اس تہوار کے ذریعے ان منفرد ذائقوں کو متعارف کروانا بہت خوشی کا باعث ہے اور اسے لوگوں نے بہت زیادہ پسند کیا ہے۔ ہمارا مقصد نہ صرف ایک لذیذ تجربہ فراہم کرنا ہے بلکہ یہ بھی کہ چین کے کھانوں کی متنوع روایات کے ساتھ ان مشروبات اور میٹھے کھانوں کے پسِ پردہ موجود بھرپور ثقافتی ورثے کا اظہار کیا جائے۔"
ایک سعودی برانڈ سوما اپنے خاص الخاص انگور کے پتوں کے ساتھ ساتھ انگور کے پتوں سے بنے فتّہ، مسخّن، کبہ، اور احتیاط سے منتخب اجزاء سے تیار کردہ تازہ جوس جیسے پکوانوں کے لیے مشہور ہے۔ اس کی بانی نورا عبداللہ نے کہا: "ہم جو کچھ بھی پیش کرتے ہیں وہ گھر کا تیار کردہ ہوتا ہے جس میں ہمارا خاص الخاص کھانا انگور کے پتے بالخصوص مقبول ہے۔"
"میں نے الخبر سے کام کا آغاز کیا، پھر اسے ریاض تک وسعت دی اور اب جدہ میں اس میلے میں شرکت کرکے میں سوما کو فرنچائز کرنے کے امکانات کی تلاش میں ہوں۔ مہمانوں کی طرف سے مثبت فیڈ بیک ناقابلِ یقین رہا ہے خاص طور پر انگور کے پتوں کے لیے۔ ان کا ردِ عمل بہت حوصلہ افزا رہا ہے اور مجھے سوما کو مزید لوگوں تک لانے کی ترغیب ملی ہے۔"
جدہ میں واحد ملائیشیائی ریستوراں مائی مقن کے مالک احمد عمران نے عرب نیوز کو بتایا: "اس طرح کے تہوار متنوع ثقافتوں کو مجتمع کرتے ہیں اور کھانا زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو متحد کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔"
"عالمی کھانوں کے ایسا جشن دیکھنا واقعی حیرت انگیز ہے اور میرے لیے زائرین کو مستند ملائیشیائی پکوانوں سے متعارف کروانا خوشی کا باعث ہے۔ ملائیشیا کے کھانوں کے بارے میں کمیونٹی کی طرف سے مثبت ردِ عمل کا مشاہدہ کرنا بھی خوش آئند ہے۔"
فیسٹیول فوڈ ٹرک مالکان کا بھی خیر مقدم کرتا ہے۔ یہ انہیں اپنے کھانے کی نمائش اور نئے گاہکوں کو راغب کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
الصفا ضلع میں واقع ایک فوڈ ٹرک پروٹین ڈوز کی مالک البراء یحی نے کہا کہ فیسٹیول نے انہیں اپنی مصنوعات کو وسیع تر سامعین تک متعارف کرانے کا موقع فراہم کیا ہے۔
انہوں نے کہا، "میں اس طرح کے شاندار پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے مخصوص کھانے پیش کرنے کا موقع ملنے پر شکر گذار ہوں۔"
کھانا پکانے کی مہارتوں میں اضافہ کرنے کے خواہشمند افراد ورکشاپ والے حصے میں مختلف تجربات کر سکتے ہیں مثلاً سوشی بنانا، کھانے کی آرائش، پاستا کرافٹنگ حتیٰ کہ فوڈ فوٹوگرافی بھی جن میں سنگاپور کے ذائقوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
کھانا پکانے کے براہِ راست مظاہروں سے مہمانوں کے لیے کھانے کی تیاری کے جادو کا مشاہدہ کرنا بھی ممکن ہو گا۔
ایک اطالوی شیف سعد اللہ زکریا اور ایک مصری شیف مختار مہدی فیسٹیول کے شرکاء کو اپنی ورکشاپ میں پاستا بنانے کا طریقہ سکھاتے ہیں۔
زکریا نے کہا، "یہ ورکشاپس شرکاء کے لیے نہ صرف قابلِ قدر کھانا پکانے کی مہارتیں سیکھنے بلکہ تازہ پاستا بنانے کے ہنر سے آگہی کا بھی ایک بہترین طریقہ ہیں۔ حتیٰ کہ ان میں بچے بھی شریک ہو کر اس عمیق تجربے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔"
فیسٹیول کے تھیٹر والے حصے میں گٹار اور آواز سے لے کر عربی میوزک بینڈ اور ہندوستانی بھارت ناٹیم رقاصوں تک لائیو پرفارمنس پیش کی جاتی ہے۔
مزید برآں چینی ڈریگن ڈانس جیسی رومنگ پرفارمنس تہوار کے ماحول کو مزید دلکش بناتی ہیں۔
بچوں والے حصے میں بچوں کو کھانا پکانے کی ورکشاپس اور فارم کی سرگرمیوں اور دوستانہ مقابلوں میں حصہ لینے اور محفوظ اور تعلیمی ماحول میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے۔
اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ آنے والے محمد حسین نے کہا: "یہ بہت اچھا ہے کہ ورکشاپس میں بچے شامل ہو کر اپنے لیے مختلف چیزیں آزما سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فیسٹیول میں پاسپورٹ کا یہ زبردست چیلنج ہے جہاں ہر بار کسی دوسرے زون میں جانے پر آپ کو ایک مہر لگا دی جاتی ہے۔"
مکہ سے آنے والے ایک مہمان غدیر عبداللہ نے کہا: "تہوار کا بہترین حصہ یقیناً موسم ہے۔ یہ اتنا خوشگوار ہے کہ ہم تمام زونز سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ بچوں کا زون خاص طور پر پرکشش ہے۔ میرے بچوں نے ورکشاپ میں تقریباً ایک گھنٹہ گذارا اور انہیں اس کا ایک ایک منٹ پسند آیا۔"