اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے باور کرایا ہے کہ اگر غزہ میں زیر حراست تمام یرغمالیوں کو واپس نہ کیا گیا تو وہ وہاں "جنہم کے دروازے" کھول دیں گے۔
انھوں نے یہ بات اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ "ہم ٹرمپ کے ساتھ ایک حکمت عملی رکھتے ہیں جس میں وہ وقت بھی متعین ہے جب غزہ پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے اگر حماس نے ہمارے تمام یرغمالی رہا نہ کیے"۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بھرپور طریقے سے اسرائیل کو سپورٹ کر رہی ہے۔
نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس غزہ کی پٹی کے مستقبل کے حوالے سے ایک "مشترکہ حکمت عملی" ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ حماس تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
نیتن یاہو نے روبیو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ "ہم نے غزہ کے مستقبل کے لیے ٹرمپ کے دلیرانہ ویژن پر بات کی ہے، ہم اس ویژن کو یقینی بنانے کے لیے کام کریں گے"۔
ادھر مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطی کے حوالے سے امریکی پالیسی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر مرکوز ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کو اپنے عوام میں مقبولیت حاصل نہیں ہے۔ امریکا تہران پر دباؤ جاری رکھے گا تا کہ وہ عدم استحکام کا باعث بننے والی سرگرمیاں روک دے۔
مارکو روبیو نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور لبنان میں استحکام کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ روبیو نے ترجیح دی کہ ایسا لبنانی فوج کے ذریعے ہونا چاہیے۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج اتوار کے روز بیت المقدس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی معاہدے کے جاری رہنے کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔
اس سے قبل روبیو تل ابیب پہنچے تھے جو وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کا مشرق وسطی کا پہلا دورہ ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق روبیو اس دورے میں سعودی عرب اور امارات بھی جائیں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سیکورٹی کابینہ میں مشاورتی اجلاس کے بعد غزہ کی پٹی میں موبائل گھروں اور انجینئرنگ ساز و سامان کے داخلے کی منظوری نہیں دی۔ یاد رہے کہ فائر بندی معاہدے میں غزہ کے لیے موبائل گھروں اور پناہ گاہوں کی تعمیر کے لیے مطلوبہ ساز و سامان کا داخلہ مذکور ہے۔
مارکو روبیو اس سے پہلے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ کا منصوبہ واحد منصوبہ ہے جو اس وقت سامنے ہے، تاہم روبیو نے باور کرایا کہ واشنگٹن غزہ کے حوالے سے عرب تجاویز کا خیر مقدم کرے گا۔
روبیو کے مطابق حماس کو غزہ میں چھوڑ دینے والا کوئی بھی منصوبہ مشکل ہو گا کیوں کہ اسرائیل اس کی ہر گز اجازت نہیں دے گا۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق "یہ تمام (عرب) ممالک کہتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں میں دل چسپی رکھتے ہیں تاہم ان میں سے کوئی بھی کسی فلسطینی کا استقبال کرنے کو تیار نہیں ہے، ان میں سے کسی کے پاس بھی غزہ کی خاطر کچھ کرنے کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ اسی لیے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم یہ کریں گے، ہم معاملہ سنبھالیں گے۔ ہم لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ اس وقت تک پیش کر دہ واحد منصوبہ ہے۔
ادھر العربیہ نیوز کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی سیکورٹی اداروں نے معاہدے کا پہلا مرحلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسی طرح غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے نئی شرائط لاگو کرنے کی سفارش بھی کی۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے انکشاف کیا ہے کہ سیاسی اور سیکورٹی سطح پر جلد ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا تا کہ غزہ میں آئندہ اقدام کے حوالے سے فیصلہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب حماس نے ایک بیان میں واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ معاہدے کے حوالے سے پاسداری کا پابند کرے تا کہ یرغمالیوں کی زندگیاں محفوظ رہیں۔
غزہ میں فائر بندی معاہدے کے تحت حماس اور اسرائیل کے بیچ یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کی چھٹی کارروائی کل ہفتے کے روز انجام پائی۔
حماس نے کل تین اسرائیلیوں کو واپس کر دیا جس کے بعد رام کی عوفر جیل سے 369 فلسطینیوں کو رہا کر دیا گیا۔ ان میں 333 کا تعلق غزہ کی پٹی سے جب کہ 36 قیدی عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ ان میں 24 کو فلسطینی اراضی سے بے دخل کر دیا جائے گا۔
-
یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کے ساتھ جارحانہ جنگی تیاری بھی جاری ہے : اسرائیلی فوجی سربراہ
اسرائیلی فوج کے سربراہ نے ہفتے کے روز ایک بار پھر غزہ میں جنگ چھیڑنے کے بارے میں ...
مشرق وسطی -
جنگ بندی کی نئی خلاف ورزی، رفح پر اسرائیلی بمباری میں تین حماس ارکان ہلاک
غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح شہر کے مشرق میں غزہ میں پولیس افسران کے ایک گروپ پر ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ کے اعلان کے بعد بھاری بموں کی کھیپ اسرائیل پہنچ گئی
بائیڈن انتظامیہ کے دور میں اسرائیل کو بھاری بموں کی فراہمی معطل کرنے کے فیصلے کے ...
بين الاقوامى