غزہ میں ابھی تک یرغمال متعدد اسرائیلی یرغمالیوں کے گھرانوں کو ایک سال سے زیادہ عرصے بعد پہلی مرتبہ اس بات کے اشارے ملے ہیں جو ان قیدیوں کے زندہ ہونے کا پتا دیتے ہیں۔ یہ اشارے گذشتہ ہفتوں کے دوران میں حماس تنظیم کے ساتھ فائر بندی معاہدے کے تحت رہائی پانے والے یرغمالیوں کے ذریعے موصول ہوئے۔
فائر بندی معاہدے کے تحت اب تک رہائی پانے والے 19 اسرائیلی یرغمالیوں نے قید میں گزرے مشکل حالات کی کہانیاں بیان کرنے کے ساتھ مذکورہ پیغامات بھی پہنچائے۔
اگرچہ ان پیغامات اور کہانیوں نے منتظر گھرانوں کی امیدوں کو تقویت دی ہے تاہم ساتھ ہی ان کے دل یرغمالیوں کی سلامتی کے حوالے سے خوف سے بھر گئے ہیں۔ آٹھ فروری کو آزاد ہونے والے تین یرغمالیوں کی نڈھال حالت نے ان اندیشوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ابھی تک پہنچنے والی نشانیاں کم از کم 10 یرغمالیوں کے زندہ ہونے کا پتا دے رہی ہیں۔ سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے دوران میں 251 افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔
ان افراد میں 35 سالہ الکانا بوہبوٹ بھی شامل ہے جو موسیقی کی ایک محفل میں موجودگی کے دوران اغوا کیا گیا۔ غزہ میں قید کے 500 روز پورے ہونے پر بوہبوٹ نے آزادی پانے والی ایک یرغمال خاتون کے ذریعے اپنی بیوی "ریبیکا" تک پیغام پہنچایا۔ یہ خاتون غزہ میں ایک سرنگ میں بوہبوٹ کے ساتھ قید تھی۔
ریبیکا نے اپنے شوہر کی سلامتی اور پیغام کی وصولی پر خدا کا شکر ادا کیا۔
اسی طرح اپنے گھر والوں تک پیغام پہنچانے والوں میں 24 سالہ الون اوہیل بھی شامل ہے جو پیانو پر دھنیں بجاتا ہے۔ الون کی ماں کے مطابق اس کے بیٹے کو قید میں دن بھر میں کھانے کو صرف ایک روٹی ملتی ہے۔
غزہ میں یرغمالیوں کی قید کے 500 روز گزرنے کے موقع پر ان افراد کے اہل خانہ اور سپورٹروں نے اسرائیل میں مختلف مقامات پر احتجاج کیا۔ یہ لوگ غزہ میں ابھی تک موجود 73 یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
یرغمالیوں میں 47 سالہ عمری میران بھی شامل ہے جو آخری بار اپریل 2024 میں اغوا کاروں کی جانب سے جاری کیے گئے ایک وڈیو کلپ میں زندہ دیکھا گیا تھا۔ میران کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ "ہمیں اس بات کا شارہ نہیں چاہیے کہ میران زندہ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ وہ زندہ واپس آئے تا کہ ہمارے ساتھ ہو"۔
ان یرغمالیوں کو سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے زیر قیادت بڑے حملے کے دوران میں قید کر لیا گیا تھا۔ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق حملے میں تقریبا 1200 افراد مارے گئے تھے۔
دوسری جانب فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے جوابی حملوں میں اب تک غزہ کی پٹی میں 48 ہزار سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو گئے جب کہ غزہ کی پٹی کا بڑا حصہ تباہ و برباد ہو گیا۔