امریکا اور روس کے درمیان بات چیت کا پہلا دور کل سعودی عرب دار الحکومت ریاض منعقد ہوا۔ قصرِ درعیہ میں ہونے والی بات چیت کو یوکرین جنگ کے خاتمے کی جانب پہلے قدم کی بنیاد کہا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں سعودی عرب کی جانب سے بات چیت کی میزبانی کے کردار نے امریکا اور روس کے درمیان سفارتی مشنوں کو فعال کیا، دونوں طرف سے مفادات کے احترام کی اہمیت اور یوکرین کے تنازعہ کے حل کے لیے ایک عمل کی تشکیل پر مشترکہ طور پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ بات چیت سعودی عرب کی عالمی امن و سلامتی کے فروغ کی کوششوں کے تحت ہو رہی ہے۔ سعودی عرب کا یقین ہے کہ گفتگو تمام عالمی بحرانوں کو حل کرنے اور دونوں فریقوں کے درمیان نقطہ نظر کو قریب لانے کا واحد راستہ ہے تاکہ فائدے مند نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ ایسے نتائج جو عالمی امن و سلامتی کے قیام کی کوششوں پر مثبت اثر ڈالیں۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق کویت، قطر، امارات، عمان، اردن اور فلسطین نے اس بات چیت میں سعودی عرب کے فعال کردار کا خیر مقدم کیا ہے۔ اسی طرح خلیج تعاون کونسل کے جنرل سکریٹریٹ نے بھی سعودی عرب کی جانب سے ریاض میں روس اور امریکا کے درمیان بات چیت کی میزبانی کو سراہا ہے۔ سکریٹریٹ نے باور کرایا ہے کہ یہ اقدام مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے عالمی استحکام کو سپورٹ کرنے کے سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کے قائدانہ کردار اور بلند مقام کا گواہ ہے۔
خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے واضح کیا ہے کہ حالیہ سرگرمی سعودی عرب کی جانب سے ہمیشہ اپنائی گئی متوازن دانش مندانہ سیاسی روش کی کڑی ہے۔