فرانس : کھیلوں کے مقابلے میں حجاب پر پابندی امتیازی سلوک ہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایمنسٹی انٹرنیشنل فرانسیسی قانون سازوں سے اس امر کا مطالبہ کر رہی ہے کہ رواں ہفتے پیش کیے جانے والے بل کو مسترد کر دیں۔ جو کھیلوں کے مقابلوں کے دوران سکارف پہننے پر پابندی سے متعلق ہے۔

یہ بل دائیں بازو کے سینیٹرز کی طرف سے پیش کیا جائے گا اور منگل کے روز فرانسیسی پارلیمان میں اس پر ڈسکشن ہوگی۔

بل کا مقصد تمام مذہبی شناخت رکھنے والے لباس اور علامات کا کھیلوں کے دوران استعمال ممنوع قرار دینا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات امتیازی سلوک سے متعلق ہیں۔

خیال رہے سپورٹس فیڈریشن کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ مقابلوں میں سر پر سکارف اوڑھنے کی اجازت دے یا اس سے منع کرے۔ جبکہ اثر و ر سوخ رکھنے والے ممالک کی طرف سے اس پر پابندی عائد ہے۔

بل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور رواں ہفتے اس پر ہونے والی ووٹنگ سے طویل قانونی طریقہ کار کا آغاز ہوجائے گا اور اس کے نتائج غیر یقینی ہوں گے۔ یہ صورتحال ہر ان دو صورتوں میں ہوگی کہ اگر قانون ساز اس کے حق میں فیصلہ کرتے ہیں یا اس کے خلاف ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم بل کا حتمی نتیجہ اسمبلی کے حتمی فیصلہ سے منسلک ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ مطالبہ اس کے بعد سامنے آیا ہے جب فرانسیسی سونکمبا سیلا نے کہا تھا کہ اسے پیرس اولیمپک کی افتتاحی تقریب سے نکال دیا گیا تھا کہ وہ حجاب پہنتی ہے۔ اسے کہا گیا کہ بالوں کو کور کرنے کے لیے وہ کیپ کا استعمال کر سکتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل میں جینڈر حقوق کی محقق اننا بلس نے کہا 'پیرس اولیمپکس میں خواتین کو کھیلوں میں حصہ لینے سے ان کے حجاب کی وجہ سے منع کر دیا گیا تھا اور وہ عالمی مقابلوں میں شریک نہ ہو سکیں۔ فرانسیسی حکام نہ صرف حجاب کے معاملے میں امتیازی سلوک کر رہے ہیں بلکہ تمام مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے اس پر پابندی لگا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے فرانسیسی سوکر اور باسکٹ بال فیڈریشن کے ان اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ حجاب کرنے والی کھلاڑی خواتین کو مقابلوں سے نکال رہی ہے اور حکومت پیرس مقابلوں میں شرکت کرنے والی فرانسیسی خواتین کے ساتھ ہے کہ وہ اپنے سر کو ڈھانپ کر مقابلے میں شریک ہو سکیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ یہ اقدام مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں مقابلے میں شرکت سے نکالا جا سکے۔ اگر انہوں نے مذہبی شناخت سے تعلق رکھنی والی کوئی بھی چیز پہن رکھی ہے۔

کئی برسوں سے فرانسیسی حکومت مسلم خواتین کے سکارف اوڑھنے سے متعلق پالیسیاں اختیار کیے ہوئے ہے جن کے ذریعے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ سپورٹس فیڈریشن نے کھیلوں کے لباس کے ذریعے مختلف کھیلوں کے لیے حجاب اوڑھنے پر پابندی لگا دی ہے۔

یاد رہے دو سال قبل فرانس کی اعلیٰ عدالت نے کہا تھا کہ سوکر فیڈریشن کی حجاب پر لگائی جانے والی پابندی آزادی اظہار پر پابندی ہے۔ جبکہ فیڈریشن نے ماہ رمضان میں روزہ رکھنے والے بین الاقوامی کھلاڑیوں کے لیے بھی کھیلوں کے اوقات میں کسی قسم کی آسانی کا خیال نہیں رکھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں