ایرانی پاسداران انقلاب نے ملک میں سرگرم جاسوسی کے ایک امریکی نیٹ ورک کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
شمالی صوبے مازندران میں پاسداران انقلاب کے زیر انتظام 'کربلا فورس' کے کمانڈر نے آج بدھ کے روز بتایا کہ اس کی فورس نے صوبے میں امریکی اور اسرائیلی نیٹ ورکس کو ختم کر دیا جو خفیہ رسائی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ کمانڈر نے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں پر جاسوسی کا الزام عائد کیا۔ کمانڈر کے مطابق جاسوسی کے لیے غیر ملکی افراد، ملک کا دورہ کرنے والوں، تجارتی کمپنیوں، ثقافتی اور فلاحی مراکز کا استعمال کیا گیا۔ ان کے ذریعے معلومات اکٹھا کی جاتی ہے یا خفیہ رسائی کے نیٹ ورکس قائم کیے جاتے ہیں۔
اس سے قبل منگل کے روز ایرانی عدلیہ کی جانب سے ایک برطانوی جوڑے پر جاسوسی کا الزام عائد کر دیا گیا۔ کریگ اور لینڈسی دسمبر سے کرمان میں زیر حراست ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ جوڑا "سیاحت" کے نام پر ایران میں داخل ہوا تھا۔ ان دونوں نے ایران کے کئی صوبوں میں معلومات اکٹھا کیں اس دعوے کے ساتھ کہ وہ تحقیقی اور تعلیمی کام کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایرانی حکام نے حالیہ برسوں میں اسرائیلی ایجنسی "موساد" اور امریکی ایجنسی "سی آئی اے" کے زیر انتظام جاسوسی نیٹ ورکس کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ نیٹ ورکس ایران ممیں سیکورٹی، فوج، صنعت اور میڈیا کے شعبوں میں کام کر رہے تھے۔
اسرائیلی ایجنسی "موساد" نے گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں ایران کے اندر متعدد کارروائیاں انجام دیں جن میں قتل، سائبر حملے، جوہری دستاویزات کی چوری اور حساس مقامات تک خفیہ رسائی شامل ہے۔
ان میں سب سے نمایاں جوہری سائنس دانوں کے قتل کی کارروائیاں ہیں، جن میں 2020 میں ہلاک کر دیے جانے والے محسن فخری زادہ شامل ہے۔
اسی طرح تہران کئی بار موساد سے منسلک گروہوں اور افراد کے خاتمے اور گرفتاری کا اعلان کر چکا ہے۔ اس حوالے سے آخری انکشاف جولائی 2022 میں سامنے آیا تھا۔
تہران نے امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی CIA پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران میں جاسوسی کے نیٹ ورک چلا رہی ہے۔ ان میں سیکورٹی اور فوجی اداروں کے اندر خفیہ رسائی شامل ہے۔
سال 2019 میں ایرانی حکام نے CIA کے زیر انتظام ایک جاسوسی نیٹ ورک کے خاتمے اور 17 افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔
-
ایران کی جانب سے نصراللہ کے جنازے میں اعلیٰ سطح پر شرکت کا اعلان
اعلان بیروت سے پروازوں کی منسوخی کے باوجود کیا گیا ہے
بين الاقوامى -
واشنگٹن: مذاکرات کے لیے ایران نے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں کیا
چاہوں گا، ایک دن صبح بیدار ہوں تو سنوں ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا فیصلہ کیا ...
بين الاقوامى -
ہم دباؤ یا دھمکی کے تحت کبھی بھی مذاکرات نہیں کریں گے:ایران
ایران نےکہا ہے کہ وہ کسی ملک کے دباؤ میں آ کر مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔ ایران کی ...
مشرق وسطی