سعودی عرب کی مشرق اور مغرب کے درمیان ثالثی، بعض ممالک نے نظر انداز کیا

امریکہ-روس مذاکرات سے اب سعودیہ کی اہمیت نمایاں ہونے لگی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

گذشتہ چند سالوں سے سعودی عرب نے مشرق اور مغرب کے درمیان بالخصوص امریکہ اور روس کے حوالے سے ثالثی کرنے میں ایک اہم لیکن اکثر کم تعریفی کردار ادا کیا ہے۔ شرقِ اوسط میں امریکہ کے دیرینہ اتحادیوں کے خلاف بعض مہمات کے باعث ریاض کو وہ پہچان نہیں ملی ہے جس کا وہ امریکی مفادات کو آگے بڑھانے میں مدد کرنے کے حوالے سے مستحق ہے حالانکہ اس کی شراکت اور کردار بہت اہم رہا ہے۔

سعودی عرب کی سفارتی کوششیں 2022 سے شروع ہوتی ہیں جب مملکت نے حراست میں لیے گئے دس جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے کامیابی سے مذاکرات کیے۔ یہ فوجی یوکرین کے ان علاقوں میں پکڑے گئے جنہیں روس علیحدگی پسند تصور کرتا ہے۔ رہا کردہ قیدیوں میں دو امریکی بھی شامل تھے جس سے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کے سلسلے میں ریاض کی صلاحیت نمایاں ہوئی۔

بعد ازاں سعودی عرب نے ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں امریکہ اور روس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں ڈبلیو این بی اے کے کھلاڑی برٹنی گرائنر کی رہائی طے کروانے میں مدد کی۔ اس سلسلے میں ولی عہد نے ذاتی طور پر کوشش کی تھی۔

سعودی ثالثی کی ایک اور قابلِ ذکر مثال اس وقت پیش آئی جب مملکت نے وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ایوان گرشکووچ کو روسی حراست سے رہائی دلوانے میں مدد کی۔ اگرچہ امریکہ نے عوامی طور پر جرمنی، پولینڈ اور ترکی جیسے ممالک کی مدد کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا لیکن سعودی عرب کے کردار کو نظر انداز کر دیا گیا جس نے سفارتی خدمات پیش کیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی 2024 میں انتخابات میں کامیابی کے بعد متعدد بین الاقوامی جماعتیں اس امید پر سعودی عرب تک پہنچیں کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں اسے شامل کریں گے۔ اس بات کے پیشِ نظر کہ امریکی خارجہ پالیسی ہر نئی انتظامیہ کے ساتھ ڈرامائی طور پر بدل سکتی ہے، سعودی عرب نے حکمتِ عملی کے ساتھ اپنا نکتۂ نظر اختیار کرتے ہوئے ایک متوازن پوزیشن کا انتخاب کیا جو کسی ایک فریق کے ساتھ صف بندی کرنے کے بجائے تمام فریقوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے۔

ابتدائی مخالفت کے باوجود ریاض نے اپنا سفارتی توازن برقرار رکھا۔ دوںوں ممالک کے مابین تناؤ سے بالآخر زیادہ تعاون پر مبنی نکتۂ نظر کو راستہ ملا۔ امریکہ نے علاقائی استحکام اور سعودی-اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کے ایک ممکنہ معاہدے کے لیے سعودی حمایت طلب کی۔

امریکہ نے حوثیوں کی بطورِ دہشت گرد نامزدگی ختم کرنے اور سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو ہتھیاروں کی فروخت روک کر کافی نقصان اٹھایا جس کے بعد اس نے سعودی عرب کے بارے میں اپنے مؤقف کا از سرِ نو جائزہ لیا۔

اب سعودی عرب خارجہ تعلقات کے لیے ایک نیا انداز اختیار کرتے ہوئے دوبارہ عالمی سفارت کاری میں ایک اہم فریق کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ اس میں امریکی اور روسی حکام کے درمیان اہم مذاکرات کی میزبانی بھی شامل ہے جس کا مقصد یوکرین میں جاری جنگ کی وجہ سے کشیدہ تعلقات کو درست کرنا ہے۔

اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے معاونین کے درمیان ابتدائی بات چیت کامیاب ثابت ہوئی تو دونوں صدور کے درمیان ریاض میں سربراہی ملاقات بھی ممکن ہے۔

ایک ثالث کے طور پر سعودی عرب کا کردار بدستور بڑھ رہا ہے اور مملکت مضبوطی سے بین الاقوامی تعلقات کے پیچیدہ معاملات میں خود کو ایک اہم فریق کے طور پر سامنے لا رہی ہے۔

جیسا کہ امریکہ میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے اس ہفتے ریاض میں امریکہ اور روس کے براہِ راست مذاکرات کے پہلے دور کے بعد تبصرہ کیا، "اپنی پوری تاریخ میں، سعودی عرب نے مذاکرات کے لیے ایک پل اور امن کے پیامبر کے طور پر کام کیا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں