امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ارب پتی مشیر ایلون مسک وفاقی حکومت کے اخراجات میں کمی کے لیے اپنی اصلاحاتی مہم کو مزید سخت کریں۔
ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہا کہ "ایلون بہت اچھا کام کر رہے ہیں لیکن میں انہیں مزید دلیری سے کام کرتے ہوئے دیکھنا چاہوں گا۔ یاد رکھیں ہمارے پاس بچانے کے لیے ایک ملک ہے"۔
امریکی محکمہ برائے حکومتی کارکردگی نے اعلان کیا کہ جامع کفایت شعاری کے اقدامات کے ذریعے 55 ارب ڈالر کی بچت کی گئی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ اپنی دوسری میعاد کے آغاز کے بعد سے حکومتی کارکردگی کے محکمےکو وفاقی ایجنسیوں کی جانچ کی ذمہ داری سونپی تھی۔ یہ محکمہ ارب پتی ایلون مسک کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ انہوں بے مثال حکومتی تبدیلی کے حصے کے طور پر فضول اخراجات کو ختم کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لی اور بڑی تعداد میں اضافی ملازمین کو نکالنا شروع کیا۔
حکومت کی کارکردگی کی وزارت نے پیر تک موجودہ پراگرس کو مثبت قرار دیا۔ اس نےاپنا عوامی ویب سائٹ پورٹل لانچ کیا جس پر دھوکہ دہی کا پتہ لگانے، حذف کرنے، معاہدے کی منسوخی، لیز، لیز پر دوبارہ گفت و شنید، اثاثوں کی فروخت، گرانٹ کی منسوخی، افرادی قوت میں کمی، پروگرامنگ میں تبدیلی اور ریگولیٹری بچت کی تفصیلات شائع کی جارہی ہیں۔
یہ اقدام گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز کے بعد انتظامیہ کی جانب سے شروع کی گئی حکومتی اصلاحات کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایلون مسک کو فضول سرکاری اخراجات کو ختم کرنے اور حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے حکومتی کارکردگی کی وزارت کا سربراہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اس حکومتی اصلاحات کی خصوصیت سخت اقدامات سے ہے جس میں ہزاروں سرکاری ملازمین کی برطرفی بھی شامل ہے۔
محکمہ برائے حکومتی کارکردگی کےماہرین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گذشتہ ماہ صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے لاگت میں کمی کے اقدامات کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو اندازاً 55 بلین ڈالر کی بچت کی ہے۔