ماسکو نے یوکرین میں یورپی افواج کی تعیناتی مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ماسکو میں کرملن ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ روس کی تزویراتی نوعیت کی حامل نادر معدنیات کے بڑے ذخائر کے حوالے سے امریکا کے ساتھ تعاون کے مواقع دیکھ رہا ہے۔

پیر کی شام روسی صدر ولادی میر پوتین نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ "ہم روس کو واپس ملنے والی اپنی نئی اراضی پر غیر ملکی کمپنیوں کے استقبال کے لیے تیار ہیں ... ہم نئے علاقوں میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کے لیے مستعد ہیں جن میں امریکی بھی شامل ہیں"۔

پوتین کے مطابق ان کا ملک یوکرین میں پائے جانے والے قدرتی ذخائر کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذخائر کا مالک ہے اور ان ذخائر سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔

ادھر کرملن ہاؤس کے ترجمان دمتری بیسکوف نے آج منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "اس میدان میں نہایت وسیع امکانات موجود ہیں ... امریکیوں کو نادر معدنیات کی ضرورت ہے اور ہمارے پاس ان کی بڑی مقدار ہے"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یوکرین پر ایک معاہدہ دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو واشنگٹن کو اس کے معدنیاتی ذخائر مثلا ٹائٹینیئم اور لیتھیئم تک رسائی کا موقع دیں۔

روس نے یوکرین کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں اراضی پر قبضہ کر لیا جس کے اندر لیتھیئم اور دیگر معدنیات کی بڑی مقدار موجود ہے۔

بیسکوف کے مطابق روس کو ابھی امریکا کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں وقت درکار ہے جس نے یوکرین میں لڑائی کے سبب ماسکو پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

کرملن ترجمان نے کہا کہ "ہم امریکیوں پر اعتماد کر رہے ہیں ... ہمیں ایک دوسرے کے ھوالے سے بہت سے چھوٹے اقدامات کرنا ہوں گے جس سے اعتماد کی بحالی آسان ہو جائے"۔

یوکرین میں یورپی افواج کی تعیناتی سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کرملن ہاؤس نے کہا ہے کہ "یوکرین میں یورپی فوج کی تعیناتی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے"۔

کرملن کے ترجمان کے مطابق "امریکا زیادہ متوازن موقف اختیار کر رہا ہے جس کا مقصد یوکرین کا تنازع حل کرنے کی کوشش ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں"۔

اس سے قبل ٹرمپ نے فرانسیسی صدر عمانویل میکروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ یوکرین کی جنگ چند ہفتوں کے اندر ختم ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا روس اور یوکرین کے درمیان معاہدے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ امن فوج کے طور پر یورپی فورسز کو یوکرین بھیجنے میں کوئی مسئلہ نہیں دیکھتے۔ وائٹ ہاؤس کے سربراہ کے مطابق وہ روس جائیں گے اور اسی طرح ان کے روسی ہم منصب ولادی میری پوتین امریکا آئیں گے۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ رواں ہفتے یا آئندہ ہفتے یوکرین کے صدر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں