انیس جنوری کو غزہ کی پٹی میں نافذ ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام پر حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔حماس کےبیان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس پر ایک بار پھر تنقید کے تیر برسائے ہیں۔
ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ "غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کا فیصلہ اسرائیل کرےگا ۔ ہم نے اس حوالے سے فیصلہ اپنے اتحادی پر چھوڑ دیا ہے‘۔
"لاشیں بھیجنا"
انہوں نے حماس کو "شریر لوگوں کا ٹولہ" بھی قرار دیا۔ انہوں نے بدھ کی شام وائٹ ہاؤس میں اپنی کابینہ کی پہلی میٹنگ کے دوران کہاکہ حماس سمجھتی ہے کہ وہ لاشیں بھیج کر ہم پر احسان کر رہی ہے"۔
انہوں نے کہا کہ "حماس برے لوگوں کا ایک گروپ ہے"۔
حماس نے 4 اسرائیلیوں کی لاشیں جو 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حملے کے دوران قبضے میں لی گئی تھیں مصر، قطر اور امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات میں اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے پہلے مرحلے کے حصے کے طور پر تل ابیب کے حوالے کی ہیں‘۔
تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کو ختم ہونے والا ہے۔
جب کہ فریقین دوسرے مرحلے پر مذاکرات کے آغاز کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس جنگ کو ایک بار اور ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ اتحاد کرنے والے انتہائی اسرائیلی دائیں بازو کے لیڈروں نے غزہ میں جنگ ختم کرنے کی مخالفت کی ہے۔ ان کی مخالفت نیتن یاھو کی حکومت کے تسلسل کے لیے خطرہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً 58 اسرائیلی اب بھی غزہ کی پٹی میں قید ہیں، جن میں 35 کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کی بمباری میں مارے جا چکے ہیں۔