مراکش میں وزیر اوقاف احمد التوفیق نے رواں سال عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی سرکاری طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ملک میں بہت سے لوگوں نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا بالخصوص جب کہ اس فیصلے سے ایک طبقہ قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے اثر سے محفوظ رہے گا کیوں کہ گذشتہ سیزن میں قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں۔
دریں اثناء قربانی کی استطاعت رکھنے والے طبقے میں اس حوالے سے بعض سوالات اٹھائے جا رہے ہیں بالخصوص اس حکم کی مخالفت کی قانونی حیثیت پر ... معلوم رہے کہ ملک کے فرماں روا شاہ محمد السادس پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ "عوام کی طرف سے قربانی"کریں گے۔
ان حالات میں بعض شہری خفیہ طور پر قربانی کا سہارا لے سکتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔ سابق فرماں روا شاہ حسن الثانی کے دور میں ماحولیاتی اور اقتصادی وجوہات کے سبب بعض مرتبہ عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی کو منسوخ کیا گیا۔
کیا قانون اس سرگرمی کو جرم قرار دیتا ہے؟
مراکش کے شہر الدار البیضاء میں وکیلوں کی انجمن کے ایڈوکیٹ پروفیسر خالد الدان نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فوجداری سزا کے لیے قانونی متن کا موجود ہونا نا گزیر ہے جس کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں میں سے ہے کہ "متن کے بغیر کوئی جرم اور کوئی سزا نہیں ہوتی"۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ جیسا کہ قانون کے ماہرین جانتے ہیں، مجرمانہ متن کی تشریح محدود دائرے میں کی جاتی ہے اور اس کی تشریح کو وسعت نہیں دی جاتی ہے۔ پروفیسر خالد نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شاہی فرمان ایک عمومی سمت کو واضح کرنے کے لیے آیا ہے جو ملک کی عوامی پالیسیوں کے تعین میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اسے ایک طرح سے رہنمائی، مشورہ اور ہدایت سمجھا جا سکتا ہے جس کا مقصد ملک کو کسی بھی پریشانی سے بچانا اور دشواریوں کو کم کرنا ہے۔
شرعی فریضہ
دوسری جانب مقامی علمی کونسل کے سربراہ لحسن سکنفل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکمرانوں کی اطاعت فرض ہے۔ ان کے مطابق شاہ محمد السادس کے فیصلے کی شرعی بنیاد ہے جس کا مقصد تکلیف کو کم کرنا اور نقصان کو دور کرنا ہے۔
لحسن سکنفل نے واضح کیا کہ تکلیف کو دور کرنا اس بات سے مربوط ہے کہ زیادہ تر عوام انتہائی مہنگی قیمتوں کے سبب قربانی کے جانور نہیں خرید سکتے ... جہاں تک نقصان دور کرنے کا تعلق ہے تو وہ مویشیوں کا تحفظ ہے جن کی افزائش کئی سال کی مسلسل خشک سالی اور بد انتظامی کے سبب نقصان سے دوچار ہے۔ انھوں نے اپنی بات کے اختتام پر باور کرایا کہ جانوروں کی قربانی نہ کرنے کے فیصلے کی پاسداری کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 1963، 1981 اور 1996 میں غیر معمولی اقتصادی اور ماحولیاتی حالات کے سبب مراکش میں شاہی فرمان کے ذریعے عید الاضحی پر جانوروں کی قربانی سے روک دیا گیا تھا۔