عرب ممالک میں رمضان مبارک کے آغاز کے ساتھ ہی سڑکوں پر خصوصی تزئین و آرائش نظر آنے لگتی ہے۔ اس دوران میں گھروں اور عمارتوں میں خصوصی روایتی "فانوس" اپنی جگہ لے لیتے ہیں۔ بالخصوص مصری معاشرے میں ہر سال رمضان کی آمد پر فانوس کی یہ روایت بھرپور انداز سے ظاہر ہوتی ہے۔
رمضان میں نمودار ہونے والے اس روایتی فانوس کی تاریخ کیا ہے ؟ یہ رمضان المبارک کے ساتھ مربوط کیوں ہو گیا ؟
فانوس نام کی وجہ
فانوس کا لفظ اصل میں 'قدیم یونانی زبان' سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے معنی 'روشنی کا کوئی بھی ذریعہ' ہے جس کو قدیم یانانیوں نے متعارف کرایا تھا مثلا مشعل اور چراغ وغیرہ۔
مصری وہ پہلے لوگ شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے فاطمی دور سے رمضان کے فانوس کا استعمال شروع کیا۔ اس فانوس کی تاریخ اور اس کے استعمال کے آغاز کے حوالے سے مختلف روایتیں پائی جاتی ہیں۔ رمضانی فانوس کے استعمال کو 15 رمضان 362 ہجری (972 عیسوی) کو فاطمی حکمراں المعز لدین اللہ کے قاہرہ میں داخل ہونے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ مصری مرد، خواتین اور بچے ایک بڑی سواری میں سلطان المعز کا خیر مقدم کرنے کے لیے روانہ ہوئے جو رات کے وقت شہر پہنچا تھا۔ ان تمام افراد نے مشعلیں اور رنگ برنگے فانوس تھامے ہوئے تھے تا کہ سلطان کے لیے راستہ روشن ہو جائے۔ اس موقع رمضان کے اختتام تک سڑکوں پر فانوس روشن رہے۔ اس طرح یہ رمضان کے مہینے کے ساتھ مربوط مصری معاشرے کی ایک روایت بن گئی۔ بعد ازاں یہ رواج عرب دنیا میں پھیل گیا۔
ایک دوسری روایت کے مطابق بھی مصر میں ان فانوسوں کا استعمال فاطمی دور کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہاں لوگ رمضان مبارک کی تیاری کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کا اہتمام کرتے تھے۔ اس موقع پر دکانوں اور مساجد کو فانوسوں سے سجایا جاتا تھا تا کہ سڑکیں روشن رہیں۔ بچے رات میں کھیل کے طور پر ان فانوسوں کے گرد چکر لگاتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ فانوس مصری معاشرے میں ماہ رمضان کے ساتھ مربوط ہو گیا۔ یہ ایک عوامی ورثہ بن گیا اور پھر کئی عرب ممالک میں منتقل ہو گیا۔
رمضان میں مصر میں "حلو يا حلو" اور "وحوي يا وحوي" جیسی عبارتیں مشہور ہو گئیں۔ رمضان سے متعلق بہت سے گیتوں میں میں ان الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ مصر میں چھوٹے بچے سڑکوں اور محلوں میں ان عبارتوں کے ساتھ رمضان مبارک کا استقبال کرتے ہیں
فانوس کی صنعت
قدیم زمانے میں فانوس بنانے کی صنعت سستے ٹین کے استعمال سے شروع ہوئی۔ پھر یہ عمل ترقی کر کے ایک دست کاری فن بن گیا، جس میں اس کو تیار کرنے والے لوگ نقش و نگار اور ہاتھ سے بنائی جانے والی تزئین و آرائش کا اضافہ کرنے لگ گئے۔ اس مقصد کے لیے تانبے اور رنگین شیشے کو منتخب کیا گیا، اور اس میں موم بتی رکھنے کے لیے ایک لکڑی کا پیندا رکھا جاتا تھا تا کہ روشنی فراہم کی جا سکے۔
وقت کے ساتھ ساتھ فانوسوں کے حجم میں تبدیلی آئی اور یہ موم بتی کی بجائے تیل اور ڈوری سے رشن ہونے لگے۔ اس وقت سے لے کر اب تک فانوس بنانے کی صنعت میں بہت ترقی ہو چکی ہے۔ اس کی تیاری کے لیے مختلف مواد استعمال ہونے لگے ہیں جو ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ ان میں ارابیسک لکڑی، دھات، تانبا، پلاسٹک اور یہاں تک کہ خیامیہ کے نام سے معروف کپڑا بھی شامل ہے۔