کولمبیا یونیورسٹی کے قریب فلسطینی حامی مظاہرہ: 200 سے زائد افراد کی شرکت

ٹرمپ کی مظاہرین طلباء کو خارج اور تعلیمی اداروں کی امداد بند کر دینے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

دو سو سے زیادہ فلسطینی حامی مظاہرین منگل کو نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی کے سامنے جمع ہوئے اور سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کے خلاف مظاہرہ کیا جو ایک تقریر کے سلسلے میں کیمپس میں موجود تھے۔

سات اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیل کے حامیوں اور غزہ جنگ کے مخالفین دونوں نے کیمپس میں ایک سال سے زیادہ عرصے تک مظاہرے کیے جس کے بعد اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے سابق رہنما کی آمد پر متوقع منفی ردِ عمل دیکھنے کو ملا۔

کولمبیا فلسطین سولیڈیریٹی کولیشن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا، "ایسے پرتشدد اور صریح امتیازی ریکارڈ کے حامل شخص کی میزبانی کرنے کا فیصلہ یہ پیغام دیتا ہے کہ یونیورسٹی بعض آوازوں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتی ہے۔"

تقریب کے انفرادی مظاہرین جن میں سے اکثر نے ماسک یا روایتی فلسطینی کوفیہ پہن رکھے تھے، میں سے کوئی بھی اے ایف پی کے صحافیوں سے بات کرنے پر راضی نہیں ہوا۔

جائے وقوعہ پر موجود پولیس نے قریبی اسرائیل نواز جوابی مظاہرین کے ایک چھوٹے گروپ کو احتجاج سے الگ رکھا حالانکہ دونوں مظاہرے بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے ہوئے۔

یہ احتجاج اسی دوران کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یہود دشمنی کے سلسلے میں نیویارک یونیورسٹی کے لیے وفاقی فنڈنگ منقطع کرنے کی دھمکی دی تھی۔

وفاقی حکومت نے پیر کے روز کہا کہ وہ کولمبیا کے ساتھ 50 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدے ختم کرنے پر غور کر رہی تھی اور یہ الزام عائد کیا کہ وہ اپنے یہودی طلباء کو مظاہروں کے دوران یہود دشمنی سے بچانے میں ناکام رہی۔

ٹرمپ نے منگل کو اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، "غیر قانونی احتجاج کی اجازت دینے والے کسی بھی کالج، سکول یا یونیورسٹی کے لیے ہر طرح کی وفاقی فنڈنگ بند ہو جائے گی۔"

پوسٹ میں مزید کہا گیا، "مشتعل افراد کو قید یا مستقلاً ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔ امریکی طلباء کو جرم کی نوعیت کی بنیاد پر مستقلاً خارج کر دیا یا گرفتار کر لیا جائے گا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں