فلسطینی گروپ حماس کے سربراہ کے سیاسی مشیر طاہر النونو نے رائٹرز کو تصدیق کی کہ گروپ کے کے رہنماؤں اور اسیروں کے امور کے امریکی ایلچی ایڈم بوہلر کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئیں۔
اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور ان کے مشیروں نے بدھ کو حماس کے ساتھ بات چیت کے بارے میں ایک طویل میٹنگ کی اور فیصلہ کیا کہ انہیں ایک مضبوط عوامی پیغام بھیجنے کی ضرورت ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ اس خیال کا مقصد حماس پر رعایتیں دینے کے لیے دباؤ ڈالنا اور یہ واضح کرنا تھا کہ گروپ کے بارے میں امریکی موقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔