نیو یارک میں ایک نمایاں فلسطینی کارکن کو کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینی کاز کے لیے ہونے والے مظاہرے کی وجہ سے ہفتے کی رات حراست میں لے لیا ہے۔
فیڈرل امیگریشن اتھارٹیز کا کہنا ہے کہ وہ اس سٹوڈنٹ کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ایجنٹوں میں سے ایک نے فون پر بتایا ہے کہ وہ دفتر خارجہ کے ایک حکم پر عمل کر رہے ہیں۔ تاکہ خلیل کا سٹوڈنٹ ویزا ختم کیا جا سکے۔
اٹارنی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ خلیل کے پاس مستقل رہائشی کے طور پر گرین کارڈ ہے۔ وکیل کے مطابق اس کا گرین کارڈ بھی منسوخ کیا جا رہا ہے۔
محمد خلیل کے وکیل ایمی گریر نے پریس کو بتایا کہ محمد خلیل کولمبیا یونیورسٹی کے ملیکتی اپارٹمنٹ میں موجود تھا جب 'مین ہٹن' کیمپس میں متعدد امیگریشن اور کسٹم انفورسمنٹ ایجنٹس اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے اور اسے گرفتار کر لیا۔
واضح رہے یہ گرفتاری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ملکی سٹوڈنٹس کو گرفتار کرنے اور 'ڈی پورٹ' کے اس حکم سے متعلق ہے جو احتجاج میں شرکت کرنے والے غیر ملکی سٹوڈنٹس کے بارے میں جاری کیا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے جمعہ کے روز کولمبیا یونیورسٹی کے لیے 400 ملین ڈالر کی فیڈرل گرانٹ میں کٹوتی کر دی ہے۔ اس کٹوتی کی وجہ کولمبیا یونیورسٹی میں اسرائیل کی غزہ جنگ کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے نہ روک سکنے کو بتایا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کولمبیا یونیورسٹی میں ان مظاہروں کو یہود دشمنی بھی قرار دیتی ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے ایک ترجمان نے کہا ' قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایجنٹس کو یونیورسٹی میں داخل ہونے سے پہلے وارنٹ پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔ ترجمان نے ایسے کسی وارنٹ کے یونیورسٹی کو موصول ہونے کی تردید کی ہے جن کی وجہ سے محمد خلیل کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
اس واقعے کے بارے میں دفتر خارجہ، اندرونی سلامتی کے ادارے اور 'آئی سی ای' نے اس فلسطین کے حامی کی گرفتاری کے بارے میں چاہنے کے باوجود تبصرہ نہیں کیا ہے۔
خیال رہے محمد خلیل امریکی کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کی حمایت میں چلنے والی تحریک کا سب سے نمایاں چہرہ بن چکے ہیں۔ محمد خلیل نے کولمبیا یونیورسٹی کے جنگ مخالف طلبہ کی نمائندگی کرتے ہوئے یونیورسٹی کے منتظمین سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔