مکمل چاند گرہن کب ہوگا اور یہ کن ممالک میں دیکھا جا سکے گا؟
یہ گرہن چاند کی سطح کے تقریباً 118 فیصد حصے پر محیط ہوگا، اور چاند گرہن کے شروع سے اختتام تک تمام مراحل میں تقریباً 6 گھنٹے اور 3 منٹ لگیں گے۔
ایک نایاب فلکیاتی مظہر میں جس کا دنیا بھر کے لاکھوں افراد بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں جلد وقوع پذیر ہونے والا ہے۔ مصر کے قومی ادارہ برائے فلکیات نے چاند گرہن کے حوالے سے تمام تفصیلات کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ واقعہ آئندہ جمعہ 14 مارچ کو ہونے کا امکان ہے،
انسٹی ٹیوٹ آف آسٹرونومی نے ایک سرکاری بیان میں چاند کی سطح پر زمین کے سائے سے ڈھکنے والے علاقے اور اس کی مدت کے بارے میں بھی وضاحت کی ہے۔
مصر میں قومی ادارہ برائے فلکیاتی تحقیق نے متوقع مکمل چاند گرہن کی تفصیلات شائع کیں کیونکہ یہ واقعہ زمین کے سورج اور چاند کے درمیان خاص طور پر کنکشن لائن پر واقع ہونے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔
چاند گرہن کا دورانیہ
مصری فلکیات کے ادارے نے اپنے بیان میں بتایا کہ اس چاند گرہن کے دوران زمین کا سایہ چاند کی سطح کا تقریباً 118 فیصد احاطہ کرے گا اور چاند گرہن کے شروع سے اختتام تک کے تمام مراحل میں تقریباً 6 گھنٹے 3 منٹ لگیں گے جب کہ چاند گرہن کے پہلے حصے کے آغاز سے لے کر آخری جزوی چاند گرہن کے اختتام تک تقریباً 3 گھنٹے 38 منٹ لگیں گے۔
ادارے نے اس بات پر زور دیا کہ چاند گرہن کو سورج گرہن کے برعکس دیکھنے سے آنکھوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔
چاند گرہن کہاں دیکھا جا ئے گا؟
وہ علاقے جہاں پورے چاند گرہن کو دیکھا جا سکتے ہے ان میں شمالی اور جنوبی امریکہ اور دو قطبی براعظم ہیں۔
چاند گرہن کا کچھ حصہ یورپ، افریقہ آسٹریلیا کے علاوہ مشرقی ایشیا میں بھی دیکھا جا سکے گا۔
البتہ وسطی اور مغربی ایشیا جن میں سعودی عرب ،مشرقی افریقہ اور مصر کے علاقے شامل ہیں میں یہ چاند گرہن نہیں دیکھا جا سکے گا۔