وائٹ ہاؤس کی ترجمان اور ’اے پی‘کے نامہ نگا ر کے درمیان براہ راست جھڑپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے منگل کے روز خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے نامہ نگارسے سخت ناراضی اور برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے نامہ نگار کے ایک سوال کو اپنے لیے "توہین آمیز" قرار دیا اور کہا کہ اس سوال میں صحافی معاشیات کے بارے میں ان کے علم کو جانچنے کی کوشش کی۔

رپورٹر جوش بوک نے سہ ماہی بزنس راؤنڈ ٹیبل (BRT) اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر کے بارے میں پوچھا جو وائٹ ہاؤس کی پریس کانفرنس کے بعد ہونے والی تھی۔

رپورٹر نے کہا کہ اگرچہ ٹرمپ نے اس سے قبل 2024 میں اپنی آخری بزنس راؤنڈ ٹیبل میٹنگ کے دوران ٹیکسوں میں کٹوتیوں کو فروغ دیا تھا، لیکن اب وہ ٹیرف کے ذریعے "ٹیکس میں اضافے" پر زور دے رہے ہیں۔

لیویٹ نے اس قسم کے سوال پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ "یہ سچ نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا کہ"مجھے حیرت ہے کہ وہ ٹیکسوں میں کٹوتیوں کو ترجیح کیوں دیتے ہیں" ۔ اس پر بوک نے جواب دیا، "وہ ایسا نہیں کرتا۔ وہ اصل میں ٹیکس میں اضافے کو لاگو نہیں کرتا ۔ ٹیرف بیرونی ممالک پر ٹیکس میں اضافہ ہے جس میں ہمارا فائدہ ہے۔ ٹیرف امریکی عوام کے لیے ٹیکس میں کٹوتی ہے اور صدر ٹیکس میں کٹوتیوں کے بڑے حامی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "جیسا کہ آپ جانتے ہیں صدر نے ٹپس، اوور ٹائم، یا سوشل سکیورٹی کے فوائد پر ٹیکس نہ لگانے کے عہد پر مہم چلائی۔ اس نے ان تینوں چیزوں کا عہد کیا ہے، اور وہ توقع کرتے ہیں کہ کانگریس اس سال کے آخر میں انہیں پاس کر دے گی"۔

اس پر نامہ نگار بوک نے جواب دیا کہ"میں معافی چاہتا ہوں، کیا آپ نے ٹیرف ادا کیا؟ کیونکہ میں نے کیا تھا۔ یہ غیر ملکی کمپنیوں پر عائد نہیں ہے، یہ درآمد کنندگان پر عائد کیا گیا ہے"۔ اس پر لیوٹ نے کہا کہ جب ہمارے پاس منصفانہ اور متوازن تجارت ہوگی، جسے امریکی عوام نے کئی دہائیوں میں نہیں دیکھا ، آمدنی یہاں رہے گی، اجرت بڑھے گی اور ہمارا ملک دوبارہ امیر ہو جائے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "مجھے معیشت کے بارے میں اپنے علم کو جانچنے کی آپ کی کوشش اور صدر کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کی توہین معلوم ہوتی ہے۔ مجھے اب ایسوسی ایٹڈ پریس کا سوال سن کر افسوس ہوا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں