یوکرین کی سرزمین پر نیٹو افواج کی کسی بھی شکل میں موجودگی روس کے لیے خطرہ ہے: لاوروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ امریکی وفد نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں روسی فریق کے ساتھ بات چیت کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ روس کے ساتھ معمول کے تعلقات کا خواہاں ہے اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

لاوروف نے ایک انٹرویو کے دوران کہاکہ ریاض میں جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف کے ساتھ ملاقات ہوئی ہمیں اندازہ ہوا کہ وہ معمول کے تعلقات چاہتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکی خارجہ پالیسی کی بنیاد امریکی قومی مفادات کا تحفظ ہے"

لاوروف نے کہا کہ اس وقت امریکی سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک کے بھی اپنے قومی مفادات ہیں اور وہ ان ممالک کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں جن کے اپنے قومی مفادات ہیں اور وہ دوسروں کی مثال پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔

باہمی مفادات

روسی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ روس اور امریکہ کو ان شعبوں میں باہمی فائدے حاصل کرنے کا موقع نہیں گنوانا چاہیے جہاں ان کے مفادات ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔سٹریٹیجک مفادات کا حصول اور علاقائی استحکام دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ "ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ہمارے اختلافات چاہے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، جنگ میں تبدیل نہیں ہونے چاہئیں ۔ اگر ہمیں مشترکہ مفادات ملتے ہیں تو ہمیں انہیں ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرنے کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو دونوں فریقوں کے مفادات کو پورا کرتے ہیں"۔

روس امریکہ چین کی ملاقات

سیرگئی لاوروف نے کہا کہ ماسکو صدر ٹرمپ کے اس خیال کے لیے کھلے پن کا مظاہرہ کرے گا کہ اگر چینی فریق دلچسپی رکھتا ہے تو روس، امریکہ اور چین کے درمیان جوہری سلامتی کے معاملات پر بات چیت کے لیے اجلاس منعقد کرائے گا۔

انہوں نے مزید کہاکہ "ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی جوہری ہتھیاروں اور سلامتی کے مسائل پر بات چیت کے لیے سہ ملکی اجلاس یعنی امریکہ، چین اور روس کا انعقاد کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ہم باہمی احترام، مساوات اور پیشگی تصورات کو مسترد کرنے پر مبنی کسی بھی فارمیٹ کے لیے تیار ہیں۔ اگر ہمارے چینی دوست اس میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ فیصلہ ان پر منحصر ہے"۔

نیٹو اور بنیادی وجوہات کو ختم کرنا

روسی وزیر خارجہ نے یوکرینی بحران کے حل کے لیے تمام کوششوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اس کی بنیادی وجوہات کو ختم کیا جا سکے۔

لاوروف نے امریکی بلاگرز ماریو نویل، لیری جانسن اور اینڈریو ناپولیتانو کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہاکہ "یہ صرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نہیں ہیں جو کثیر قطبی کی بات کر رہے ہیں۔ بحران کی بنیادی وجوہات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے بارے میں بات کی۔ وہ تنازعت کی بنیادی وجوہات کو سمجھتے ہیں"۔

لاوروف نے کہا کہ "ہم کسی بھی حالت میں یوکرین میں نیٹو افواج کی موجودگی کو قبول نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی قیادت میں یوکرین کو تحفظ کی ضمانت فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں‘‘۔

لاوروف نے نیٹو کے بجٹ کے لیے ’جی ڈی پی‘ شراکت کے معیار پر پورا اترنے والے ممالک کے لیے امریکہ کی جانب سے سکیورٹی کی ضمانتوں کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات کا ذکر کیا۔

لاوروف نے کہا کہ "لیکن ٹرمپ اسے یوکرین کو نہیں دینا چاہتے، جس کی قیادت زیلنسکی کر رہے ہیں۔ صورتحال کے بارے میں ان کا اپنا نظریہ ہے، جس کا وہ براہ راست اور مستقل طور پر اظہار کرتے ہیں"۔

یورپ تنازعے کو بڑھانا چاہتا ہے

روسی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ برطانیہ اور متعدد یورپی ممالک یوکرینی تنازعے کو بڑھانا چاہتے ہیں اور ایسے اقدامات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جو صدر ٹرمپ کو روس کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے پر مجبور کر دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یورپی ممالک یوکرین کے حوالے سے صورتحال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ ایسے اقدامات کی تیاری کر رہے ہیں جو ٹرمپ کو روس کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے پر مجبور کریں گے"۔

ایران کے ساتھ دوبارہ جوہری معاہدہ

ایرانی جوہری مسئلے کے بارے میں روسی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن ایران سے متعلق نئے جوہری معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں متعدد گروپوں کی حمایت بند کرنے کی شرط لگانا چاہتا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر مشترکہ جامع منصوبہ بندی (JCPOA) کو دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر تبصرہ کرتے ہوئے لاوروف نے کہاکہ "پریشان کن بات یہ ہے کہ کچھ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکی اس نئے معاہدے کو سیاسی حالات سے جوڑنا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ عراق، لبنان، شام یا کسی اور جگہ پر گروپوں کی حمایت نہیں کر رہا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں