مراکش کے وزیر تعلیم محمد سعید برادہ کی جانب سے ایک انتظامی فیصلے کے تحت وزارت تعلیم کے 16 اہلکاروں کی برطرفی کے بعد عوامی حلقوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیاہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر تعلیم نے مراکش کے 16 شہروں میں 16 علاقائی ڈائریکٹرز ایجوکیشن کو ایک ساتھ برطرف کر دیا۔
مراکشی وزیر نے معائنہ رپورٹس کا حوالہ دیا جس میں "لیڈرشپ سکولز" کے منصوبوں کے نفاذ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ ایک نیا حکومتی پروگرام ہے جس کا مقصد تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی کے انضمام کو فروغ دینا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں سب سے بڑی برطرفی کے جواب میں اپوزیشن پروگریس پارٹی بلاک کے سربراہ، راشد حمونی نے وزیر تعلیم سے ایک سوال کرتے ہوئے حکومت کے فیصلے کے پیچھے حقیقی پس منظر جاننے کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن پارٹی نے اس بات پر زور دیا کہ برطرف کیے گئے متعدد ڈائریکٹرز ان کی "پیشہ ورانہ اہلیت، دیانتداری، انتظامی غیر جانبداری، موثر کارکردگی اور شفافیت " کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے تعلیم کے شعبے میں اہم کامیابیاں حاصل کررکھی ہیں"۔
مراکش کے رکن پارلیمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ برطرفی کے فیصلے طاقت کا غلط استعمال یا سیاسی اور انتخابی اسکور کو طے کرنے کا عمل بن سکتے ہیں۔
متنازعہ فیصلے پر اپنے پہلے تبصرے میں وزارت تعلیم نے مراکش کے سات شہروں میں سات ڈائریکٹرز ایجوکیشن کے تبادلے اور 16 علاقائی ڈائریکٹرز کی ڈیوٹی ختم کرنے کی تصدیق کی۔
وزارت تعلیم نے برطرفی کے فیصلوں کو عہدیداروں کی کارکردگی اور تعلیمی اصلاحات کے پروگراموں کے نفاذ میں کردار ادا کرنے کی ان کی صلاحیت کے جائزے سے منسلک کیا۔